تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 361 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 361

تاریخ احمدیت۔جلد 28 361 سال 1972ء نے وہاں کے علاقہ کے متعدد اکابرین سے ملاقاتیں کیں۔تبلیغ کے سلسلہ میں مختلف کیمپوں (Tengeru اور West Meru) کا دورہ بھی کیا۔نیز فروخت کتب و اخبارات میں مصروف رہے۔Morogoro (موروگورو )۔مکرم چوہدری رشید احمد صاحب سرور کلاس کے طالب علموں کو قرآن کریم ناظرہ، تفسیر قرآن اور قاعدہ میسر نا القرآن پڑھانے کے ساتھ ساتھ روزانہ نماز فجر کے بعد قرآن کریم اور نماز مغرب کے بعد حدیث کا درس بدستور دیتے رہے۔بیسیوں معززین تک پیغام حق پہنچایا۔جس میں سے بعض خاص طور پر مدعو کئے گئے تھے۔آپ نے اپنے شہر کے بعض معززین سے انفرادی طور پر بھی ملاقاتیں کیں۔الحاج شیخ نصیر الدین احمد صاحب بغرض ملاقات انچارج مبلغین تین دن کے لئے دارالسلام تشریف لائے۔یہاں آپ نے سواحیلی زبان میں خطبہ جمعہ بھی دیا۔Tabora (بورا)۔مولا نا عبدالرشید صاحب رازی حسب سابق سر گرم عمل رہے۔ریلوے سکول کے پرنسپل کے بچوں کو بھی پڑھاتے رہے۔آپ کے علاقہ میں ٹیچرز کا ایک کورس تھا جس میں بہت سے مسلمان ٹیچر بھی شامل تھے۔ان میں سے کئی ٹیچر نر سے آپ نے ملاقات کر کے تبادلہ خیال کیا اور لٹریچر بھی دیا۔احباب جماعت کو خطبات حضرت خلیفہ اسیح الثالث پڑھ کر سناتے رہے۔Bukoba ( بکوبہ )۔شیخ یوسف عثمان صاحب کمبا الا یا نے اسلام کی تبلیغ کے سلسلہ میں زبانی اور بذریعہ لٹریچر سو سے زیادہ افراد تک پیغام حق پہنچایا جس میں دکاندار، تجار، یوگنڈا اور دار السلام یونیورسٹی کے طلباء بھی شامل ہیں۔Busimbe کا دورہ کیا۔مختلف مذاہب کے علماء سے تبادلہ خیالات کا موقع ملا۔ضلع Karagwe کے مکینوں کو کافی تبلیغ کی۔ان کے علاوہ ہمارے افریقن مبلغین مکرم معلم محمود صاحب، مکرم معلم داؤدی علی صاحب، مکرم معلم نور الدین صاحب، مکرم معلم یوسف صاحب، مکرم معلم عبداللہ صاحب، مکرم معلم عبداللہ علی صاحب، مکرم معلم جملہ محمد صاحب اور مکرم معلم محمود عبداللہ صاحب تنزانیہ کے مختلف ریجنز میں فریضہ 66 دعوت الی اللہ بجالاتے رہے۔64 چوہدری عنایت اللہ صاحب احمدی سابق مبلغ انچارج تنزانیہ مشرقی افریقہ تحریر فرماتے ہیں:۔جولائی ۱۹۷۲ ء میں ہمارے اثر و رسوخ کو کم کر کے دکھانے کی خاطر مخالفین سلسلہ نے مدینہ یونیورسٹی کے ایک جرمن نومسلم طالب علم مسٹر خالد نو ٹارڈی کو تنز انسیہ بلایا اور انہیں شہر بہ شہر لے کر گئے۔