تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 359
تاریخ احمدیت۔جلد 28 ترجمہ بھی شامل تھا۔359 سال 1972ء ملک میں حضرت نعمت اللہ ولی کے قصائد کا تذکرہ زوروں پر رہا۔خواجہ صاحب نے اصل قصیدہ کے منتخب اشعار اور ان کی تشریح ایک پمفلٹ کی شکل میں طبع کرائی اور برما کے اردو دان طبقے تک پہنچادی۔اس سال متعدد زائرین جماعت کے برمامشن میں تشریف لائے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق معلومات حاصل کیں۔مانڈے اور رنگون کے دوافراد داخل احمدیت ہوئے۔62 تنزانیہ اس مشن کے انچارج مولوی محمد منور صاحب مہمات دینیہ میں سرگرم عمل رہنے کے بعد اس سال ۴ فروری ۱۹۷۲ء کو نیروبی تشریف لے گئے اور مشن کے مبلغ انچارج مولا نا عبدالباسط صاحب شاہد مقرر ہوئے جو تین سال سے اس ملک میں دینی خدمات بجالا رہے تھے۔مولانا عبد الباسط صاحب شاہد کی مرسلہ پہلی ششماہی کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا محمد منور صاحب کی جاری کردہ دینی کلاس اس سال بھی ان کی نگرانی میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔کلاس کے دو طالب علم اور ایک احمدی نوجوان مور و گورو ٹیچر ٹریننگ کالج میں داخلہ کے لئے چن لئے گئے جس میں چوہدری افتخار احمد صاحب ایاز کی راہنمائی اور مدد کا دخل تھا۔کلاس کے طلباء نے تلاوت قرآن پاک، فن تقریر اور فروخت لٹریچر کی ٹرینگ لی اور تعلیم و تربیت کے میدان میں خاص ترقی کی اور متعد دسعید روحوں تک احمدیت کی آواز پہنچائی۔کلاس میں بعض اہل علم حضرات کی تقاریر کے علاوہ سید نا حضرت مصلح موعود کے ایک ایمان افروز خطاب کا سواحیلی زبان میں ترجمہ شدہ ٹیپ بھی سنایا گیا جو طلباء کے علم و عرفان میں اضافہ کا موجب ہوا۔دار السلام کے مرکزی جماعتی دفاتر میں مختلف زائرین معلومات کی غرض سے آئے جنہیں مولانا عبدالباسط صاحب نے دینی لٹریچر پیش کیا۔ان معززین میں تنزانیہ اسمبلی کے سپیکر جناب آدم ساپی بھی شامل تھے۔جنہیں آپ نے ضروری معلومات بہم پہنچائیں اور قادیان سے شائع شدہ دیدہ زیب احمدیہ مسلم کیلنڈر ۱۹۷۲ تحفہ دیا۔وہ ہجری شمسی تقویم سے بہت متاثر ہوئے۔چوہدری عنایت اللہ صاحب نے کئی بااثر افراد سے ملاقات کر کے پیغام احمدیت پہنچایا۔طبورا (Tabora) مشن ہاؤس میں شہر اور مضافات سے بہت سے زائرین آئے جنہیں مولانا عبدالرشید صاحب رازی نے اسلامی مسائل اور ان کے فلسفہ سے آگاہ کیا اور خاص اہتمام کے ساتھ