تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 355 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 355

تاریخ احمدیت۔جلد 28 355 سال 1972ء نے ایک تبلیغی جلسہ کا اہتمام کیا۔علاقہ میں ایک موزوں ہال کرایہ پر لیا گیا اور غیر از جماعت احباب کو شمولیت کی دعوت تحریری طور پر بھجوائی گئی۔غیر از جماعت احباب کے علاوہ چند انگریز مہمانوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔خاکسار عطاء المجیب راشد نے تعارف اسلام کے موضوع پر پون گھنٹہ تقریر کی جس کے آخر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور آپ کی صداقت کے دلائل کا تفصیل سے ذکر کیا۔تقریر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے بارہ میں حاضرین نے متعد دسوالات کئے جن کے جوابات دیئے گئے۔ساؤتھ آل میں جماعت نے یوم تبلیغ کے سلسلہ میں نمایاں کام کیا۔جماعت کے ۲۰ را فراد کو پانچ وفود میں تقسیم کیا گیا۔ہر وفد کے ممبران نے جن میں بچے بھی شامل تھے علاقہ کی سڑکوں اور گلیوں میں چکر لگا کر لٹریچر تقسیم کیا۔ایک دن میں ۱۷۰۰ سے زیادہ اشتہارات اور کتب دلچسپی رکھنے والے لوگوں میں تقسیم کی گئیں۔زبانی گفتگو کے ذریعہ بھی تبلیغ کی گئی۔ان جماعتوں کے علاوہ پریسٹن اور لیمنگٹن سپا Leamington Spa) کی جماعتوں میں بھی یوم تبلیغ کے سلسلہ میں نمایاں کام ہوا۔لندن اور بیرونی جماعتوں کی ان مساعی کا اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بہت مفید نتیجہ پیدا ہوا۔اس امر کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ یوم تبلیغ کے بعد لندن مشن میں متعد د خطوط موصول ہوئے جن پر مزید معلومات مہیا کرنے کی درخواست تھی۔اسی طرح بہت سے لوگوں نے ٹیلیفون پر سوالات دریافت کئے اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔اسلام سے دلچسپی ظاہر کرنے والے ان سب لوگوں کو ضروری لٹریچر مہیا کیا جاتا ہے اور مشن آکر زبانی تبادلۂ خیالات کی دعوت دی جاتی ہے“۔60 مولانا عطاء المجیب صاحب را شد ایم اے کے قلم سے انگلستان مشن کے بعض دلچسپ اور ایمان افروز واقعات کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں:۔چنددنوں کی بات ہے کہ شام کے وقت ایک دوست مسجد دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔معلوم ہوا کہ یہ خود تو مسلمان ہیں اور ایران کی پارلیمنٹ کے ممبر ہیں۔ان کی فیملی ایک عرصہ سے لندن میں قیام پذیر ہے۔جب انہیں ملنے کے لئے وہ یہاں آئے تو انہوں نے اپنے احباب سے دریافت کیا کہ کیا لندن میں کوئی مسجد ہے؟ اس پر ان کے ایک پڑوسی نے جوخود رومن کیتھولک ہے انہیں بتایا کہ ہاں مسجد ہے اور زیادہ دور بھی نہیں۔چنانچہ اسی روز وہ رومن کیتھولک عیسائی دوست انہیں مسجد لے وو