تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 328
تاریخ احمدیت۔جلد 28 328 سال 1972ء بلڈنگز ، گودام اور ایک سو کے قریب دکانیں تعمیر کرائی گئیں۔ڈلہوزی کی کوٹھی بھی تبت کے لا ماؤں کے ناجائز قبضہ کی وجہ سے خراب ہو رہی تھی۔ایک سال قبل ان کے قبضہ سے یہ کوٹھی خالی کروائی گئی تھی اور اب جون ۱۹۷۲ء میں اس کی فروخت کا انتظام کیا گیا۔29 پشاور میں ایک اہم اجتماعی تقریب ۱۳ مئی ۱۹۷۲ء کو جماعت احمد یہ پشاور نے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری اور عبدالوہاب آدم صاحب مجاہد افریقہ کے اعزاز میں پارک ہوٹل میں عصرانے کا انتظام کیا جس میں دوسو سے زائد معززین نے شرکت فرمائی۔اس موقع پر مولانا ابوالعطاء صاحب کی صدارت میں عبدالوہاب صاحب نے انگریزی زبان میں نہایت فصاحت سے غانا کے ملکی اور مذہبی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے عیسائی مشنریوں کی تبلیغی جد و جہد اور مسلمان باشندوں کی بے بسی کا تفصیل سے ذکر کیا اور پھر احمدیت کے ذریعہ سے غانا میں عیسائیت کی کامیاب اور شاندار مدافعت کا تذکرہ فرمایا۔یہ تقریر پوری روانی سے نصف گھنٹہ تک جاری رہی۔سامعین کی بھاری اکثریت انگریزی دان تھی جو بہت محظوظ ہوئی۔ازاں بعد مولانا ابوالعطاء صاحب نے خطاب فرمایا جس میں حاضرین کو قرآن مجید کی طرف حقیقی رجوع کی طرف توجہ دلائی کیونکہ مسلمانوں کی ساری عزت اور غلبہ خدا تعالیٰ کی اس زندہ کتاب کی پیروی سے وابستہ ہے نیز قرآن مجید پڑھنے، اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی اشاعت کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کی ترغیب دی۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم مشرقی پاکستان کے المیہ کے باعث رنجیدہ ہیں مگر اشاعت دین کے ذریعہ اس آخری زمانہ میں ساری دنیا کا پاکستان بننا مقدر ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب سچے مسلمان بن جائیں اور خدمت دین پر کمر بستہ ہوں۔آخر میں سب حاضرین کی تواضع چائے اور ماکولات سے کی گئی۔اس دوران بالخصوص تعلیم یافته غیر از جماعت دوست جماعت احمدیہ کی دینی مساعی پر بہت خوشی کا اظہار کرتے اور داد تحسین دیتے رہے۔متعددفوٹو بھی لئے گئے۔دوسرے روز میاں محمود احمد صاحب دہلوی امیر جماعتہائے احمد یہ ضلع پشاور کے وسیع مکان پر ایک مجلس سوال وجواب کا انعقاد عمل میں آیا۔غانا سے متعلق سوالوں کے جواب عبدالوہاب آدم صاحب نے اور سلسلہ احمدیہ کے عقائد و مسائل سے متعلق سوالات کے جوابات مولانا ابوالعطاء صاحب نے دیئے جو بہت تسلی بخش تھے۔سرحد کے مشہور شاعر جناب ابوالکیف کیفی صاحب (حمد باری