تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 318
تاریخ احمدیت۔جلد 28 318 سال 1972ء بھی مایوس ہو گیا تھا۔کیونکہ ایسے مریض عموماً پانچ فیصدی ہی ٹھیک ہوتے ہیں۔مریضہ کے لواحقین مجھے بار بار پوچھتے کہ آیا ٹھیک ہونے کی امید ہے یا نہیں۔میں نے صاف صاف تمام حقیقت سے انہیں آگاہ کیا اور انہیں ایک دوائی لکھ کر دی کہ بازار سے خرید کر اسے استعمال کرائیں اس کے گھر والے حالت سن کر دوائی خریدنے کے لئے تیار نہ تھے۔مگر مریضہ کے اصرار پر وہ لے آئے اور استعمال کراتے رہے۔اچانک چند روز قبل وہ میرے پاس آئی اور میں پہچان بھی نہ سکا وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔الحمد للہ اس نے اتنے مریضوں کے سامنے مجھے اس قدر اپنی زبان میں دعائیں دیں کہ اللہ تعالیٰ کے خاص احسان پر میری آنکھوں سے آنسو ( شکرانے کے) نکل آئے۔اللہ تعالیٰ کس قدر مہربان ہے خود ہی راہنمائی فرما یا کرتا ہے اور خود ہی برکت ڈالتا ہے۔18 مغربی افریقہ میں احمدی ڈاکٹروں کے لئے کس طرح آسمان سے تائیدات ربانی کے نشانات کا ظہور ہورہا تھا اس کا اندازہ ڈاکٹر چوہدری امتیاز احمد صاحب ایم بی بی ایس انچارج احمد یہ میڈیکل کلینک بواجے سیرالیون کے مندرجہ ذیل مکتوب سے ہوتا ہے جو انہوں نے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں لکھا:۔یکم مئی ۱۹۷۲ء کو خدا کے فضل و کرم سے ۸۶ مریض دیکھے اور دو آپریشن بھی گئے۔چھ بجے شام بمشکل فراغت ہوئی۔اللہ تعالیٰ کا محض فضل و احسان ہی شامل حال ہے کل ہی مالی“ سے آئے پیر صاحب (جن کے یہاں پر بہت مرید ہیں ) دو ہفتے کے علاج کے بعد واپس اپنے ملک روانہ ہوئے۔وہ بہت ہی ممنون احسان ہیں کہ میرے ہاتھوں انہیں مکمل صحت نصیب ہوئی ہے۔میں نے مختصراً یہی عرض کی کہ یہ محض سلسلہ عالیہ احمدیہ ، خلافت برحق اور خدائے بلند و برتر کے موعودہ احسانات وانعامات کا نتیجہ ہے۔پچھلے ماہ میں نے کان کا آپریشن کیا ہے (Plastic Surgery) جو کہ خدا کے فضل وکرم سے بہت ہی کامیاب ہوا ہے۔19 مسیحی دعوت مناظرہ کا بھر پور جواب اس سال کے شروع میں لاہور کے ایک عیسائی گریجویٹ مسٹر حبیب مسیح صاحب بی اے نے مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ایڈیٹر ماہنامہ ”الفرقان“ کے نام لکھا کہ ”بلاشبہ اس وقت احمد یوں