تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 304
تاریخ احمدیت۔جلد 28 304 سال 1972ء آپ نے خلافت اولی کے زمانہ میں بیعت کی تھی۔جنگ عظیم (اول ) میں فوج میں چلے گئے۔وہاں سے فارغ ہو کر قریباً سولہ سال تک مڈھ رانجھا ضلع سرگودھا میں مدرس رہے۔۱۹۴۳ء میں دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کر دی اور ریٹائر منٹ یعنی مئی ۱۹۷۱ ء تک ضلع شیخو پورہ کی دیہاتی جماعتوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بطور معلم اصلاح وارشاد مامور رہے۔آپ کو تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے دنیا سے دلبرداشتہ رہتے۔آپ ایک قانع، صابر اور شاکر انسان تھے۔189 خورشید بیگم صاحبه (وفات: ۱۹ دسمبر ۱۹۷۲ء) آپ ڈاکٹر طفیل احمد ڈار صاحب ستیانہ روڈ لائل پور کی اہلیہ تھیں۔مرحومہ بہت خوبیوں کی مالک تھیں۔صوم وصلوٰۃ کی پابند، غرباء کی ہمدرد، پڑوسیوں سے نہایت اعلیٰ سلوک کرنے والی خاتون تھیں۔۲۸ سال تک اپنے خاوند کے ساتھ تنزانیہ میں جماعت کی خدمت کرتی رہیں۔جماعتی مہمانوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ان کے کپڑے اپنے ہاتھ سے دھو کر خوشی محسوس کرتی تھیں۔آپ موصیہ تھیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔190 قاضی محمد عمر جان صاحب آف قاضی نخیل ہوتی ضلع مردان (وفات: ۳۱ دسمبر ۱۹۷۲ء) ۱۹۱۱ء میں حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ سرحد کے ذریعہ داخل احمدیت ہوئے 191 اور زندگی بھر نہایت پُر جوش رنگ میں پیغام احمدیت کا فریضہ بجالاتے رہے اور مخالف علماء کو ساکت کر دیا چنانچہ جناب آدم خاں صاحب امیر جماعت احمد یہ مردان تحریر فرماتے ہیں:۔ا۔قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم سابق امیر جماعت ہائے احمد یہ صوبہ سرحد اور قاضی عمر جان صاحب دونوں ہم جد تھے۔قاضی محمد یوسف صاحب پہلے احمدی ہوئے۔انہوں نے آپ کو تبلیغ کرنی چاہی تو آپ نے انہیں بڑی سختی سے روک دیا لیکن فطرت نیک تھی اس لئے بالآخر احمدیت کی آغوش میں آگئے۔آپ کی احمدیت قبول کرنے کا واقعہ بڑا عجیب ہے۔آپ ایک اور دوست صفدر خان کے ساتھ پشاور گئے۔قیام پشاور کے دوران رہائش گاہ سے آپ کو احمدیت کی دو کتابیں ملیں جن کے