تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 305
تاریخ احمدیت۔جلد 28 305 سال 1972ء سر ورق غائب تھے۔آپ نے وہ کتابیں پڑھیں اور ان سے متاثر ہوئے پھر قاضی محمد یوسف صاحب سے بعض اور کتابیں حاصل کیں اور ان کا مطالعہ کیا اور اس طرح آپ کو اور آپ کے دوست صفدرخان کو احمدیت کے قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔“ ۲۔مرحوم نے ۱۹۱۱ء میں بیعت کی اور پھر ساری عمر احمدیت کی ترقی اور فروغ میں کوشاں رہے۔تبلیغ بہترین طریق سے کرتے۔بڑے حاضر جواب تھے۔ایک دفعہ آپ کو بامر مجبوری ایک مناظرہ کرنا پڑا۔یہ مناظرہ خواجہ گنج ہوتی کی ایک سرائے میں ہوا۔اس کے لئے شہر میں خوب منادی کی گئی اور اس میں غیر از جماعت احباب بڑی کثرت سے شامل ہوئے۔موضوع امکانِ نبوت تھا۔خاکسار بھی اس مناظرہ میں موجود تھا اور ابھی احمدی نہیں ہوا تھا۔مرحوم نے اس مناظرہ میں انتہائی خود اعتمادی کے ساتھ اپنے موقف کو قرآن کریم کی روشنی میں پیش کیا۔دلائل ایسے ٹھوس اور مضبوط تھے کہ مخالف مناظر ان کا کوئی معقول جواب نہ دے سکا۔“ ۳۔قاضی صاحب مرحوم کے مناظرہ کے بعد مجھے بھی احمدیت کا لٹریچر پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ابتدائی تحریک تو سید زمان شاہ صاحب نے کی پھر بابو خواص خان صاحب اور مولوی معین الدین صاحب مرحوم سے تبادلہ خیالات ہوا اور ۱۹۳۶ء میں مجھے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک۔میری بیعت کے وقت مرحوم قاضی صاحب مقامی جماعت کے سیکرٹری تبلیغ تھے۔مردان کے گردو نواح میں تبلیغ کرنے جاتے تو مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔ان دنوں ہوتی مردان میں ایک بڑے عالم مولوی عبدالمنان صاحب تھے۔ان کے علم کا بڑا شہرہ تھا۔ایک موقع پر ایک تعزیتی مجلس میں مولوی عبد المنان صاحب اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ قاضی محمد عمر جان صاحب مرحوم بھی موجود تھے۔احمدیت کے متعلق باتیں شروع ہوئیں تو مولوی عبدالمنان صاحب نے کہا احمدی لوگ چند معمولی اور سطحی باتیں جانتے ہیں اور بس۔قاضی صاحب سے رہا نہ گیا آپ نے فرمایا۔مولوی صاحب آج مقابلہ ہو جائے تا حاضرین جان لیں کہ قرآن کریم کون جانتا ہے اور کون نہیں جانتا۔آپ قرآن کریم کا کوئی حصہ اپنی مرضی سے منتخب کر لیں اور پھر اس کا ترجمہ اور تفسیر بیان کریں اس کے بعد اسی حصہ قرآن کی تفسیر میں بیان کروں گا اور سننے والے خود فیصلہ کر لیں گے کہ کس کی تفسیر معقول اور بہتر ہے۔مولوی عبدالمنان صاحب پر ایسا رُعب طاری ہوا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی بات نہ کی اور مجلس سے اٹھ کر چلے گئے۔192 66