تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 302
تاریخ احمدیت۔جلد 28 302 سال 1972ء لائے ہیں مجھ سے فرمایا کہ اٹھو کیوں بیٹھی ہو۔چنانچہ میں اٹھ کھڑی ہوئی اور اگلے دن میں نے اپنے بیٹے کیپٹن عبد السلام کو کہا کہ میری بیعت کا خط لکھ دو۔یہ ایک ایسا فطرتی اقدام تھا کہ جس کے پیچھے ایک ہی جذ بہ کارفرما تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت جو دین اسلام کا آخری حصار ہے اس سے موجودہ انتشار مٹ جانا چاہیے اور اس کو مٹانے کا سب سے موثر طریقہ یہی نظر آیا کہ اس جماعت میں سے اگر افتراق مٹ سکتا ہے تو اس طرح مٹ سکتا ہے کہ سب لوگ دامن خلافت سے وابستہ ہو جائیں جو مشیت الہی کے ماتحت قائم شدہ نظام ہے۔یہ ایک ایسی مثال ہے جو میں نے اس غرض سے قائم کی ہے کہ اور سعید روحیں بھی اس طرف متوجہ ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آخری وصیت کا احترام قائم کریں جس میں آپ نے جماعت کو ہدایت فرمائی تھی کہ میرے تو جانے کا اب وقت آ گیا ہے میرے بعد سب مل کر کام کرو۔مجھ سے بہت بڑی شخصیت نے جو ہر لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چوٹی کے صحابہ میں سے تھے حضرت صاحب کی اس وصیت کے احترام میں خلافت ثانیہ کی بیعت کر لی تھی۔میری مراد حضرت مولانا غلام حسن خاں صاحب پشاوری سے ہے۔مولا نا مرحوم کی اپنی زبانی جو روایت مجھ تک پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ میں قادیان میں اپنی لڑکی یعنی بیگم صاحبہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے یہاں مقیم تھا اور ہرقسم کا آرام میسر تھا لیکن اس کے باوجود حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے اخلاق کا یہ نمونہ تھا کہ وہ ہر روز مجھ سے خود آ کر پوچھتے تھے کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں اور گھنٹوں میرے پاس بیٹھ کر بھی کبھی کوئی اختلافی بات نہیں فرماتے تھے۔میں نے ان کے چہرہ پر غیر معمولی ذہانت اور نورانیت دیکھی اور مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ آخری حکم یاد آیا کہ سب مل کر کام کرو۔چنانچہ میں نے اس وقت فیصلہ کیا کہ مل کر کام کرنے کی ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ دامنِ خلافت سے وابستہ ہو جائیں اور باقی جماعت کے لئے میں نے اقدام بیعت کر کے ایک عملی نمونہ قائم کیا ہے۔جائے تعجب ہے کہ اس قدر سیدھی بات کو بھی ہمارے دوستوں نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔یہ ایک ایسا اقدام ہے جو ہر ایک سعید الفطرت احمدی کو دعوت فکر دیتا ہے۔آخر پر میں اسی کا اعادہ کرتا ہوں کہ میں اسے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے خلافت سے وابستہ ہونے کی توفیق بخشی اور اس طرح خلیفہ اول سے لے کر خلیفہ ثالث تک تینوں خلافتوں کے ساتھ مجھے وابستگی کی توفیق ملی