تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 301 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 301

تاریخ احمدیت۔جلد 28 301 سال 1972ء موجودہ تہذیب نے تمام دنیا کے انسانوں کو اطمینانِ قلب کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے۔اس کے بعد میں وہاں سے رخصت ہوا تو یہ تاثر لے کر لوٹا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو برکات سماوی لے کر آئے تھے وہ ان کی اولاد میں منتقل ہو چکے ہیں اور جو اس طرف سے کٹ گئے ہیں ان کی مثال اس خشک ٹہنی کی سی ہے جو اپنے تنے سے علیحدہ ہو کر سوکھ جاتی ہے یہی حالت مجھے اپنی جماعت لاہور کے دوستوں کی نظر آئی کہ جہاں بڑے بڑے علمی کارنامے ہیں وہاں آسمانی نصرت اور برکت سے محرومیت بھی ساتھ لگی ہوئی ہے۔میرا بیٹا کیپٹن عبد السلام تو حضور کی محبت میں مجھ سے بھی چند قدم آگے تھا۔میں نے اپنے اس تاثر کو اخبار الفضل میں شائع کر دیا اور جماعت ربوہ کو مبارک باد دی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسا روحانی اور نورانی امام بخشا ہے۔اس پر جماعت لاہور میں بہت ہلچل مچی اور میرے خلاف ایک مہم چلائی گئی۔اسی تاثر کی بناء پر میں جلسہ سالانہ ۱۹۶۹ء ( کتاب میں یہاں سہواً ۱۹۶۵ ء چھپ گیا ہے ) میں شامل ہوا اور ہزار ہا مخلصین کا مجمع دیکھ کر جبکہ تا بحد نگاہ انسان ہی انسان نظر آتے تھے اور سب کے سب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں سرشار تھے اور خلیفہ وقت پر اس طرح نثار ہو رہے تھے جس طرح پروانے شمع پر گرتے ہیں تو میں نے بھی یہ فیصلہ کر لیا کہ اب جبکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا کوئی گوشہ مخفی نہیں رہا جو میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ نہ کر لیا ہو۔اس مجمع میں میں بھی دیر تک یہ روح افزا نظارہ دیکھتا رہا۔ایک موقع پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث پلیٹ فارم سے اتر کر میرے پاس تشریف لائے۔میں نے عرض کیا کہ میں باغ احمد کا یہ نظارہ کر رہا ہوں اور جیسے یہ ہزاروں پروانے حضور کے گرد بیٹھے ہیں ان میں سے میں بھی ایک پروانہ ہوں مگر پر شکستہ تو حضور نے اس وقت ہاتھ اٹھا کر میرے لئے دعا فرمائی۔میرے لڑکے عبد السلام خاں نے بھی اسی سالانہ جلسہ پر بیعت کر لی۔عبدالسلام سے بھی بہت پہلے میرے بڑے لڑکے کرنل اسلم خاں نے حضور کی بیعت کا شرف حاصل کر لیا تھا۔میں نے یہی فیصلہ کیا کہ خلافت کی برکات سے متمتع ہونے کے لئے ضروری ہے کہ میں بھی بیعت کرلوں چنانچہ میں نے بھی بیعت فارم پر کر کے اپنی کوٹھی واقع احمد پارک سے بھجوادیا۔اس کے بعد جنوری میں میری اہلیہ محترمہ نے جو مرحوم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی صاحبزادی اور مولانامحمد علی صاحب مرحوم کی سالی ہیں بیعت فارم پر کر کے بھجوایا اور ان کی بیعت ایک خواب کی بناء پر ہوئی۔وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گھر حضرت خلیفہ ثالث تشریف