تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 300 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 300

تاریخ احمدیت۔جلد 28 300 سال 1972ء احمد یہ لا ہور نے مجھ پر بڑی خفگی کا اظہار کیا۔اس کے متعلق میں نے اسی انجمن کے ایک سرکردہ ممبر سے دریافت کیا کہ یہ تو ایک معمولی سی اخلاقی بات ہے کہ کسی جماعت کے محبوب رہنما کے گذر جانے پر اظہار افسوس کیا جائے تو اتنی معمولی سی بات پر انجمن کا سیخ پا ہونا کونسی بات تھی۔تو اس دوست نے بتایا کہ انجمن اس بات سے بگڑی ہے کہ آپ کی اس تحریر میں اتنا زور ہے کہ اگر ان کی اپنی جماعت کا کوئی آدمی نوٹ لکھتا تو اتنا زور دار نہ لکھ سکتا۔در حقیقت اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ میرے دل پر حضرت خلیفہ ثانی کی عظمت کا گہرا نقش ہو چکا تھا اور میں ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام اولاد کو آیات اللہ میں سے سمجھتا تھا اور ان کا احترام کرتا تھا۔اس میں انسانی کوشش کا کوئی دخل نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب اولاد کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضلوں سے نوازا ہے چنانچہ یہی کیفیت میں نے اس وقت محسوس کی جب میں دورانِ قیام ایبٹ آباد کوہ مری جا کر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا اس وقت حضور کوہ مری سے چند میل کے فاصلہ پر بھور بن نامی ایک ڈاک بنگلے میں قیام فرما تھے۔(یہ جولائی ۱۹۷۰ء کا واقعہ ہے)۔میں اپنے بیٹے کیپٹن عبد السلام خان کی کار میں گیا۔کار جب حضور کے ڈاک بنگلہ میں جا کر ٹھہری اور ہم نے اندر اطلاع کرائی تو حضور اپنی رہائش گاہ سے نکل کر باہر تشریف لائے۔اس وقت جب میں نے نظر اٹھا کر حضور کے چہرے کی طرف دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے چاند طلوع ہو رہا ہے اور جس چیز نے مجھے مزید متاثر کیا وہ حضور کی سادگی تھی کہ اپنے معمولی لباس میں باہر تشریف لے آئے۔شیروانی اور شلوار پہن رکھی تھی اور نہ کوئی ٹائی تھی نہ کوئی کالر میں نے دل میں کہا کہ آکسفورڈ کا فارغ التحصیل نوجوان ہر قسم کے تصنع سے اس قدر بالا تر ہے کہ اس نے لباس کے معاملہ میں بھی ان لوگوں کی تقلید نہیں کی۔اس کے برعکس میرا ذہن جماعت لاہور کے اس وقت کے امیر کی طرف منتقل ہوا جو اُس وقت تک کسی سے ملاقات نہیں کرتے جب تک بڑے تکلف سے اپنے کالر اور ٹائی کے لوازمات کو پورا نہ کر لیں۔حضور میرے ساتھ ویسے ہی کار میں آکر بیٹھ گئے اور مجھے اپنے سفر یورپ کے حالات سناتے رہے اور وہیں چائے وغیرہ سے ہماری تو اضع بھی کی۔یورپ میں ان کے ساتھ جو سوال و جواب ہوئے تھے ان کا بھی ذکر کیا تو میں نے حضور سے کہا کہ وہاں صرف ان لوگوں کا آپ کا چہرہ دیکھنا ہی کافی تھا کیونکہ وہ لوگ قیافہ شناس ہیں اور وہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس چہرہ پر اس قدر طمانیت اور نور برس رہا ہو وہی اس زمانہ کی روحانی پیاس کو بجھا سکتا ہے کیونکہ