تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد 28 299 سال 1972ء چنا نچہ لاہور پہنچنے پر انہوں نے احمدیت کی مخالفت شروع کی اور ساتھ ہی آزادی کشمیر کے لئے وہ پروگرام شروع کیا جس کو وہ راست اقدام کا نام دیتے تھے اور اس راست اقدام کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست کشمیر نے اس تحریک کو آسانی کے ساتھ کچل کر رکھ دیا۔اس سے بھی اس دانشمندانہ پروگرام کی اہمیت ہمارے سامنے واضح ہوگئی کہ جو حضرت نے تجویز فرمایا تھا اور جسے مسلم کا نفرنس نے منظور کر لیا تھا چند سال جماعت لاہور کے سکولوں سے منسلک رہنے کے بعد مرحوم خواجہ کمال الدین صاحب کی نظر انتخاب مجھ پر پڑی کہ مجھے ووکنگ مشن چلانے کے لئے بھیج دیا جائے۔چنانچہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے وہ سامان پیدا کیا جس سے مجھے یورپ میں اپنے قلمی جہاد کا موقع ملا اور دو کنگ مشن کے انگریزی رسالہ اسلامک ریویو کی ادارت کا کام بھی مجھے کرنا پڑا۔میں کبھی اپنی طالب علمی کے زمانہ میں بھی اہل قلم ہونے کی شہرت نہیں رکھتا تھا لیکن یہ محض حضرت مسیح موعود کی اس رویا میں آکر خنجر دینے کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری تحریروں میں خاص اثر ڈالا اور انگریز سامعین بھی جن کی مادری زبان انگریزی تھی میری انگلش دانی پر متعجب ہوتے تھے اور مجھ سے اکثر پوچھتے تھے کہ آپ نے ہماری اتنی اچھی زبان کہاں سے سیکھی ہے۔میں ان کے اس سوال پر دل ہی دل میں یہ کہتا تھا کہ تمہیں کیا پتہ کہ میرے پیچھے کون سی عظیم طاقت کام کر رہی ہے۔ایک سابق گورنر نے جو سرحد میں رہ چکا تھا۔اپنے انگریز دوستوں کو بلا کر کہا کہ دیکھو کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کی نمائندگی ایک پیر پیائی جیسے چھوٹے سے گاؤں کے آدمی کے حصہ میں آئی ہے۔در حقیقت یہ ایسی عظیم طاقت کا ہی کرشمہ تھا جو میری مدد کر رہی تھی اور مخالفین کو ورطۂ حیرت میں ڈال رہی تھی۔ایک اور واقعہ جو میرے لئے بڑا عبرت انگیز ثابت ہوا وہ یہ تھا کہ اس زمانہ میں جب خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم انگلستان تشریف لائے ہندوستان سے ایک معمولی سا آدمی جو کسی ریاست میں موسیقار تھا اس نے تبلیغ اسلام کی تحریک ہالینڈ میں چلائی اور کئی سال بعد جب میں ہالینڈ گیا تو وہاں کے ٹیکسی ڈرائیور بھی بڑے احترام سے اس کا نام حضرت عنایت خاں کہہ کر لیتے تھے لیکن دو کنگ میں خواجہ صاحب مرحوم کا نام و نشان تک مٹ گیا اس سے مجھے یہ عبرت حاصل ہوئی کہ جس شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام کا ذکر کرنا بھی اپنے مشن کے لئے سم قاتل قرار دیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کا اپنا نام اسی سرزمین سے مٹادیا۔حضرت خلیفہ ثانی کی وفات پر میں نے جو تعزیتی نوٹ اخبار لائٹ میں شائع کیا اس پر انجمن