تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 298 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 298

تاریخ احمدیت۔جلد 28 298 سال 1972ء تھے۔جن میں بعض مخالفت پر نکلے ہوئے بھی تھے چنانچہ ایک موقعہ پر دورانِ گفتگو میں کسی ایک سوال پر ان سب نے حضرت خلیفہ ثانی کی مخالفت شروع کی اور اس طرح گفتگو کو جھگڑا ڈال کر ختم کرنے کی کوشش کی اس وقت میں نے دیکھا حضور کا چہرہ بڑا پر جلال تھا اور پر شوکت آواز میں مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :۔میں جو کہہ رہا ہوں وہ جماعت احمدیہ کے امام کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں“۔اس پر تمام مخالفت دب گئی اور ایک سناٹا چھا گیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا رعب دیا تھا کہ ایک ہی آواز میں وہ تمام آوازیں دب گئیں اور مخالفت کا فور ہوگئی۔اس مجلس میں خلیفہ شجاع الدین صاحب مخالفت کرنے میں پیش پیش تھے اور اپنی حمایت کے لئے چند مقامی وکلاء کو بھی ساتھ لائے تھے اس تحریک کشمیر کے سلسلہ میں ایک وفد سری نگر بھی حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا۔میں بھی اس وفد کا ایک ممبر تھا اس وفد کے امیر جناب مولا نا عبدالرحیم صاحب در د سابق امام مسجد لنڈن تھے اور اس وفد میں روز نامہ سیاست کے ایڈیٹر سید حبیب مرحوم اور ایک دہلی کے روز نامہ الامان کے ایڈیٹر مولانا مظہر الحق صاحب بھی شامل تھے۔حضور نے روانگی سے پیشتر ہمیں چند ایسی ہدایات دیں جن سے حضور کی گہری سیاسی دانشمندی اور علومِ ظاہری اور باطنی میں پر ہونا ثابت ہوتا تھا۔ان ہی ہدایات کی روشنی میں ہم نے سری نگر کا سفر اختیار کیا، سرینگر میں کشمیری مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت مسلم کانفرنس کا اجتماع ہوا۔اس اجتماع میں ہم نے کانفرنس کے سامنے اس موقف کی وضاحت کی جو حضرت خلیفہ ثانی نے تحریک آزادی کشمیر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہمارے ذہن نشین کی تھی۔مجلس احرار کے نمائندے بھی اس کا نفرنس میں شریک تھے مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت کا نفرنس نے اس موقف کی تائید کی جو حضرت صاحب کی طرف سے ہم نے پیش کی تھی۔احرار نے زک اٹھانے کے بعد ریاست کے حکام سے سودا بازی شروع کی اور جب حکام کشمیر سے ان کی تو قعات پوری نہ ہو ئیں تو وہاں سے نا کام واپس لوٹے۔مجھے یاد ہے کہ واپسی پر جب اُوڑی کے ڈاک بنگلہ میں میرا اور احراری لیڈروں کا ایک ہی جگہ قیام ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ خان صاحب اب ہم واپس جارہے ہیں وہاں جا کر احمدیت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔آپ لوگ یعنی جماعت لاہور کے لوگ صرف اتنا کریں کہ ہماری اس تحریک میں دخل نہ دیں۔