تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 297 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 297

تاریخ احمدیت۔جلد 28 297 سال 1972ء بیٹھے ہوئے باہر کی طرف دیکھا تو مولانا محمد علی صاحب مرحوم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے مجمع سے کہہ رہے تھے کہ خلافت کے معاملہ میں ابھی کوئی ایسی جلدی نہیں کرنی چاہیئے۔اس پر مجمع کی طرف سے پرزور مطالبہ ہوا کہ اس وقت نئے خلیفہ کا انتخاب ہونا چاہیے۔چنانچہ اس وقت مولا نا محمد احسن صاحب مرحوم امروہی نے جو اس مجمع میں تشریف رکھتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لخت جگر حضرت میاں محمود احمد صاحب کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا کہ حضور ہماری بیعت لیں۔آپ ہی ذریت طیبہ ہیں اور جماعت کی اس استدعا کو قبول فرمائیں۔چنانچہ اس پر سب نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرف ہاتھ بڑھائے اور کہا کہ ہماری بیعت لیجئے چنانچہ اس طرح خلیفہ ثانی کا انتخاب تائید ایزدی سے عمل میں آیا۔میں نے اور میرے ساتھی قاضی عبدالحق صاحب نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہمیں ابھی تو قف کرنا چاہیے تا کہ دوسرے فریق کی بات سن لیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر گئے جو مسجد کے قریب تھی۔وہاں مولوی صاحب اور ان کے چند رفقاء جمع تھے اور وہ خلافت کے خلاف تلقین کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ یہ تو پیر پرستی ہے اور یہ خلیفہ کل کا بچہ ہے اس لئے انہوں نے اس قومی اجتماع کے برخلاف ایک اور تحریک چلائی کہ اپنا علیحدہ نظام انجمن کے نام سے قائم کر کے جماعت کو اپنی طرف شامل ہونے کی دعوت دی اور قادیان چھوڑ کر لاہور میں اپنا صدر مقام بنالیا اور ایک علیحدہ انجمن کی بنیاد ڈال دی۔میں اور قاضی مرحوم بھی بیعت کئے بغیر واپس گئے اور لاہور میں آکر تمام حالات کا جائزہ لینے کے چند ماہ بعد حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کا شرف حاصل کیا۔( بیعت تو کی تھی لیکن بعد ازاں نظام جماعت سے تعلق نہ رکھا۔) بیعت خلافت کرنے کے بعد حضرت خلیفۂ ثانی کی شخصیت کا مجھ پر گہرا اثر اس وقت ہوا جب میں نے زیادہ قریب سے ان کو دیکھا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب حضور نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کی قیادت ہاتھ میں لی اور مسلمانانِ ہند کے اصرار پر جن میں مرحوم علامہ ڈاکٹر اقبال صاحب بھی شامل تھے یہ بہت بڑی قومی خدمت کا بوجھ اپنے کندھوں پر بخوشی اٹھا لینا منظور کیا اور اس تحریک کو چلانے کے لئے کشمیر کمیٹی کے نام سے ایک مجلس قائم کی۔مجھے بھی حضور نے اس کمیٹی کا ایک ممبر نامزد فرمایا۔حضور کی شخصیت کا ایک مجزا نہ کرشمہ میرے دیکھنے میں اس وقت آیا جب اس کشمیر کمیٹی کی ایک میٹنگ لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں ہو رہی تھی اور لاہور کے سرکردہ مسلمان لیڈر بھی اس میں شامل