تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 295
تاریخ احمدیت۔جلد 28 295 سال 1972ء بے شمار نعمتوں کا وارث بنائے۔پس روح پر تو نہ میرا اختیار ہے اور نہ ان کے کسی عزیز کا اختیار اور نہ آپ کا اختیار ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار سے غیر مبائعین پر ایک حجت بنا دیا اور ایک لمبا عرصہ ان میں رہے اور ایک لمبا عرصہ ان کے سوچے سمجھے منصوبوں کے مطابق (جو بھی وہ سمجھتے تھے ) احمدیت کی ترقی کے لئے کوشاں رہے۔لمبے عرصہ کے مشاہدہ اور ایک لمبے عرصے کے جائزہ نے انہیں حقیقی کامیابیوں سے محرومی کا احساس بھی دلا دیا اور پھر وہ علی وجہ البصیرت اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد پورا ہونا ہے تو پھر جو شخص بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پیار کرنے والا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس نیک دل پر اپنے پیار کا جلوہ نازل فرمایا اور جو غلطی تھی وہ اس شخص نے اسی دنیا میں معاف کرالی۔اب ہمارا یہ بھائی خدا تعالیٰ کے پیار کو لے کر اُخروی دنیا میں چلا گیا۔ان کی نماز جنازہ غائب جمعہ کی نماز کے بعد میں پڑھاؤں گا۔سب دوست اس میں شامل ہوں اور ان کے لئے اور اپنے لئے اور جانے والوں کے لئے اور رہنے والوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کا پیار ہمیشہ ہمارے نصیب میں رہے اور کبھی عارضی طور پر بھی اس کی ناراضگی کی راہیں ہم پر نہ کھلیں اور ہمارے قدم نا پسندیدہ راہوں کی طرف نہ بھٹکیں۔“ اس ضمن میں مزید فرمایا :۔”خدا کرے کہ آٹھ نو مہینوں کے بعد جب جذبات ٹھنڈے پڑ جائیں اور عقل ان کے تابع نہ رہے تو ان کا تابوت ( جو خدا کرے عارضی طور پر وہاں دفن ہوا ہو) یہاں بہشتی مقبرہ میں آجائے۔بہر حال ان کی روح کا جو مقبرہ ہے وہ تو وہی ہے جو خدا نے ان کے لئے پسند کیا۔ہماری دعائیں ان کے ساتھ بھی ہیں اور ہماری دعائیں ہر وقت پہلے جانے والوں کے ساتھ بھی ہیں۔یہاں جو رہ گئے ہیں ان کے ساتھ بھی ہیں۔“ نماز جمعہ کے بعد حضور کی اقتداء میں احباب نے خانصاحب مرحوم کی نماز جنازہ غائب ادا کی۔186