تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 285
تاریخ احمدیت۔جلد 28 285 سال 1972ء سے اخذ کر کے سولہ ضخیم جلدوں میں مرتب کر دکھایا۔پھر ایک بڑا کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ شمالی ہندوستان کے بے شمار علمی گھرانوں میں سرسید احمد خان کے تحریر کردہ جو مکتوب محفوظ چلے آ رہے تھے انہیں ڈھونڈ نکالا۔آپ یہ کام چالیس سال سے کر رہے تھے۔تلاش بسیار کی ان مسلسل کاوشوں کے دوران جو خط بھی آپ کو دستیاب ہوتا اسے آپ نقل کر کے اپنے پاس محفوظ کر لیتے اور اصل خط اس کے مالک کو واپس کر دیتے۔اس طرح آپ کے پاس سرسید احمد خان کے خطوط کا ایک بہت ضخیم مسودہ جمع ہو گیا تھا۔اس مسودہ کے کاغذ بوجہ امتداد زمانہ بوسیدہ ہو چکے تھے اور ان پر تحریر کردہ خطوط کی روشنائی بھی پھیکی پڑ چکی تھی۔اس بات کا خطرہ تھا کہ اصل خطوط کی طرح ان کی نقول کا یہ بوسیدہ مسودہ بھی کہیں ضائع نہ ہو جائے۔آپ نے وہ مسودہ بھی مجلس ترقی ادب کے حوالہ کر دیا۔اس طرح ” مکتوبات سرسید کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب ہو گئی جس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔مزید برآں بہت سی نایاب قدیمی کتابوں کو آپ نے از سر نو ایڈٹ کر کے اور جگہ جگہ توضیحی و تشریحی حواشی درج کر کے ان کی افادیت میں اضافہ کیا اور اس طرح انہیں بہتر نقش ثانی کے طور پر شائع کرنے کے قابل بنایا۔سرسید احمد خان کی آپ کی ایڈٹ کردہ ایسی کتابیں مختلف اشاعتی اداروں کی طرف سے شائع ہوئیں اور محترم شیخ صاحب کے اس کام کو بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ محترم شیخ صاحب کے گرانقدر ادبی کارناموں کا ملک بھر میں ایسا ڈنکہ بجا اور ہر طرف سے ایسا تحسین و آفرین کا غلغلہ بلند ہوا کہ بالآخر حکومت پاکستان نے بھی ۱۹۷۰ء میں آپ کی عمر بھر جاری رہنے والی ادبی خدمات کی اس رنگ میں قدر افزائی کی کہ آپ کو حسن کارکردگی کے صدارتی ایوارڈ کا حقدار قرار دے کر حسن کارکردگی کا تمغہ اور سند آپ کی خدمت میں پیش کی گئی۔اس اعزاز کے ملنے پر ملک بھر سے کثیر تعداد میں تہنیتی خطوط آپ کو موصول ہوئے۔خطوط ارسال کرنے والوں میں غیر ملکی سفیروں، پاکستانی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں، پروفیسروں، ادیبوں اور دیگر نامور دانشوروں کے خطوط بھی شامل تھے لیکن سب سے زیادہ خوشی آپ کو اپنے آقا سید نا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے (آکسن) خلیفہ اسیح الثالث کے دعاؤں سے پر تہنیتی والہ نامہ سے ہوئی۔الغرض بڑے بڑے نامی گرامی ادیبوں اور دیگر اہم شخصیتوں نے محترم شیخ صاحب کو ایسے ایسے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جو آب زر سے لکھنے کے قابل تھے۔لیکن افسوس وہ سب تہنیتی خطوط