تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 283
تاریخ احمدیت۔جلد 28 283 سال 1972ء اعتراف میں ان کی روح کی جناب میں نذرانہ عقیدت پیش کر رہا ہوں“ یہ سن کر وہ فرمانے لگے کہ وہ تو احمدی تھے۔میں نے ان سے عرض کی کہ ہمیں اس سے کیا غرض۔یہ معاملہ ان کا اور ان کے پروردگار کا ہے۔اگر وہ احمدی تھے تو ہم کیوں پریشان ہوں۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ جو کچھ مذہب کے بارے میں انہوں نے لکھا ہے اور جس طرح لکھا ہے آئندہ نسلیں اس سے ضرور متاثر ہوں گی۔جب میں نے ان کو شیخ صاحب کی مذہبی، دینی، تاریخی اور اسلامی کتب کی تفصیل سے آگاہ کیا تو وہ انگشت بدنداں رہ گئے۔شیخ محمد اسماعیل پانی پتی ان بزرگ اور نیک نفس ادیبوں میں سے تھے جنہوں نے اردو زبان و ادب کے ذریعہ دنیا کی اخلاقی طہارت کا کام سرانجام دیا۔ان کی تحریروں، تنقیدوں ، مکتوبات اور سوانحی خاکوں ،غرضیکہ ان کی ہر تحریر سے ایک شریف ، سادہ مزاج مخلص اور ہمدرددل کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے راقم الحروف سے ایک مرتبہ دوران گفتگو میں فرمایا تھا کہ شمس العلماء خان بہادر مولوی ذکاء اللہ دہلوی کے صاحبزادے مولوی عنایت اللہ دہلوی نے ان کو مشورہ دیا تھا کہ ایسی کوئی چیز نہ لکھنا جو عورتوں اور بچوں کے ہاتھ میں نہ دی جاسکے اور بقول ان کے اللہ پاک کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے مجھے اس قابل قدر نصیحت پر سختی سے عمل کرنے کی توفیق دی۔میں نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی اور بکثرت مضامین بھی لیکن کبھی اپنے قلم، اپنے دماغ اور اپنے خیالات کو عریانی اور فحاشی سے آلودہ نہیں کیا۔اس طرح ہم ان کے قلم کی عفت کی قسم کھا سکتے ہیں اور یہ کوئی معمولی سعادت نہیں۔شیخ صاحب مرحوم نے اس دنیا میں ایک صالح زندگی گزاری اور ادب و زندگی میں صالح قدروں کی تبلیغ و ترویج سے ایک ایسی شمع جلائی جو ان کے بعد بھی ہماری علمی اور اخلاقی گذرگاہوں کو منور کرتی رہے گی“۔172 مسعود احمد خاں صاحب دہلوی آپ کی شاندار علمی و ادبی خدامت کا مفصل تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔محترم شیخ صاحب کی تصانیف اور تالیفات اور عربی کتب کے اردو تراجم کی مجموعی تعداد یکصد سے بھی اوپر ہے۔مزید برآں آپ نے بہت سی نایاب کتب کو ایڈٹ کر کے اور ان میں جگہ جگہ حواشی تحریر کر کے ان کے نئے ایڈیشن مرتب کئے۔آپ کے تحریر کردہ حواشی کی وجہ سے ان کتب کی افادیت میں گرانقد را ضافہ ہوا۔ان کتب کے یہ نئے ایڈیشن ملک کے مختلف نامور اشاعتی اداروں کی طرف سے خاص اہتمام سے شائع ہو کر ان اداروں کے لئے بے حد مالی منفعت کا موجب ہوئے۔