تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 272
تاریخ احمدیت۔جلد 28 سید عبدالجلیل شاہ صاحب (وفات ۲ / اگست ۱۹۷۲ء) 272 سال 1972ء آپ حضرت حکیم میر حسام الدین صاحب کے پوتے اور حضرت میر حامد شاہ صاحب کے صاحبزادے تھے۔155 سید عبدالجلیل شاہ صاحب نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔بی اے مرے کالج سیالکوٹ سے کیا جس کے بعد محکمہ تعلیم میں ملازمت اختیار کر لی اور چنیوٹ ،لاہور ،سرگودھا اور فیصل آباد میں بطور ہیڈ ماسٹر خدمات بجالاتے رہے۔ریٹائر ہونے کے بعد ربوہ میں ایک ٹیوشن سنٹر کھول لیا اور اس طرح آپ تا وفات ملک وقوم کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر وقت پڑھا تا رہوں۔ٹیوشن سنٹر میں آپ نے نویں و دسویں کلاسز کے علاوہ ایف اے اور بی اے کے طلباء کو بھی داخل کیا ہوا تھا اور ان کی کھیلوں وغیرہ کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔آپ کے پڑھانے کا انداز نرالا تھا۔ایک دفعہ کا پڑھا ہوا سبق طلباء بھولتے نہیں تھے۔غریب بچوں کی طرف خاص توجہ فرماتے۔طلباء کے سوالات کے جوابات نہایت محبت سے دیتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے۔آپ ملنسار، مہمان نواز اور دوسروں کے کام کرنے والے انسان تھے۔جہاں جاتے اپنی شیریں زبان اور خوش مزاجی کی وجہ سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیتے۔ہر وقت مسکراتے رہنا اور اپنی دلچسپ باتوں سے دوسروں کا دل بہلانا ان کی عادت تھی۔حافظہ بہت تیز تھا۔فرمایا کرتے گو میں بوڑھا ہو گیا ہوں لیکن مجھے ایف اے اور بی اے کا کورس ابھی تک یاد ہے۔عبادت گزار اور دعا گو تھے۔ہر روز صبح تین بجے اٹھتے۔سردی ہو یا گرمی ٹھنڈے پانی سے غسل فرماتے اور نماز تہجد ادا کرتے۔صاحب کشوف اور رؤیا تھے۔آپ کی کئی خوا میں پوری ہو ئیں اور آپ کے اور دوسرے متعلقین کے ازدیاد ایمان کا موجب ہو میں۔ربوہ جس جگہ آباد ہے یہ جگہ بھی کئی سال قبل آپ کو خواب میں دکھائی گئی تھی جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس جگہ کو مرکز تعمیر کرنے کے لئے چنا اور اس کی نشاندہی کی تو آپ نے بتایا یہ وہی جگہ ہے جو مجھے خواب میں دکھائی گئی تھی۔امتحانات سے قبل اکثر خواب کے ذریعہ بعض سوالات کا علم پاتے اور اپنے شاگردوں کو بتاتے اور امتحان میں وہی سوال آتے۔156 سید محمد لطیف شاہ صاحب ( وفات ۴ /اگست ۱۹۷۲ء)