تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 267 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 267

تاریخ احمدیت۔جلد 28 267 سال 1972ء ہوئے۔ریلوے سٹیشن پر پہنچ کر ٹکٹ لے کر سامان گاڑی میں رکھا اور خود کسی کام کے سلسلہ میں سٹیشن پر ہی تھے کہ گاڑی روانہ ہوگئی۔اور آپ کا سارا سامان آپ سے جاتا رہا۔اسی بے سروسامانی میں آپ ربوہ پہنچ گئے۔اور اس دوران بہت دعائیں کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ یاوری فرمائے اور سامان واپس مل جائے۔تھوڑی دیر بعد دیکھا کہ ایک اجنبی بوڑھا شخص آپ کا سامان اٹھائے ان کی تلاش میں ضلع ہزارہ کی قیام گاہ میں داخل ہوا۔اس شخص کا کہنا تھا کہ س کوڈ بہ میں اتنا پتہ چل گیا تھا کہ سامان والا شخص ربوہ جارہا ہے اور نام بھی کسی طرح معلوم ہو گیا تھا۔150 مولانا تاج الدین صاحب لائلپوری (وفات ۲۴ جون ۱۹۷۲ء) ۱۹۱۴ء میں ۱۲ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے خاندان (جو چک نمبر ۳۳۲ ج ب لائلپور میں آباد تھا) میں سب سے پہلے قبول احمدیت اور قادیان جانے کی توفیق بخشی۔جس کے بعد کی آپ کا قریباً سارا خاندان احمدی ہو گیا۔آپ خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے مدرسہ احمدیہ قادیان میں ہم جماعت تھے۔مولوی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ نے یکم مئی ۱۹۲۵ء کو تدریسی میدان میں قدم رکھا اور اینگلوورینکلر مڈل سکول گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں عربی ٹیچر کی حیثیت سے آپ کی تعلیمی خدمات کا آغاز ہوا۔۱۴ مئی ۱۹۲۹ء سے ۲۸ مارچ ۱۹۳۶ء تک مدرسه احمد یہ قادیان میں عربی ٹیچر کے فرائض نہایت محنت سے انجام دیتے رہے۔چنانچہ شیخ نور احمد صاحب منیر مجاہد بلاد عر بیہ کا بیان ہے:۔محترم مولانا مرحوم کو تعلیم و تدریس کا وسیع اور کامیاب تجربہ تھا۔مدرسہ احمدیہ قادیان کی ابتدائی جماعتوں کو مولانا عربی ادب پڑھایا کرتے تھے۔صرف و نحو کا مضمون بھی ان کے سپر د تھا۔ان کی تدریس میں یہ خوبی قابل ذکر ہے کہ کورس بھی مکمل کراتے اور بہت ہی اچھے انداز میں پڑھایا کرتے تھے۔پڑھائی کے ساتھ عملی مشق کراتے اور۔۔۔کا پیاں روزانہ دیکھا کرتے اور ہر کاپی پر نوٹ دیا کرتے جن کی تعمیل کرنی ضروری ہوتی۔مدرسہ میں پڑھایا کرتے اور کا پیاں گھر میں دیکھا کرتے۔ان کے مضامین کا نتیجہ بہت ہی نمایاں ہوا کرتا تھا۔محترم مولانا نہایت ہی محنتی تھے اور قدرتی طور پر ان کا رعب بھی بہت تھا۔چونکہ مولا نا مولوی فاضل کے ساتھ اوٹی (O۔T) بھی تھے اس لئے آپ