تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 264
تاریخ احمدیت۔جلد 28 264 سال 1972ء نکال دیا گیا۔مگر آپ کوہ استقلال بنے رہے اور اپنی تعلیم جاری رکھی۔۱۹۲۵ء میں آپ کلکتہ یو نیورسٹی سے بی اے کر چکے تھے۔۱۹۲۹ء میں آپ نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان بھی پاس کر لیا۔کچھ عرصہ وکالت بھی کی مگر اسے اپنی طبیعت کے خلاف پا کر چھوڑ دیا۔آپ کو سب جی کی پیشکش کی گئی لیکن اسے بھی آپ نے ٹھکرا دیا۔۱۹۳۱ء میں پہلی بار قادیان دارالامان کی زیارت سے مشرف ہوئے اور خدمت دین کا ولولہ لئے ہوئے واپس وطن پہنچے جہاں آپ کو جماعت احمدیہ کے بنگلہ زبان میں شائع ہونے والے اخبار احمدی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا اور آپ کامیابی کے ساتھ اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔۱۹۴۰ء میں آپ ہجرت کر کے قادیان آگئے جہاں جامعہ احمدیہ میں استاد رہے۔یکم نومبر ۱۹۴۲ء سے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ٹیچر مقرر ہوئے۔۱۲ مئی ۱۹۴۴ء کو زندگی وقف کی۔۲۹ فروری ۱۹۶۳ء کو صدر انجمن احمدیہ سے ریٹائرڈ ہوئے۔یکم مارچ ۱۹۶۳ء کو وکالت دیوان تحریک جدیدر بوہ میں رپورٹ کی اور آپ امریکہ میں اشاعت دین کیلئے منتخب کئے گئے۔چنانچہ ۶ /اپریل ۱۹۶۳ء کو آپ پہلی مرتبہ ربوہ سے امریکہ تشریف لے گئے۔آپ کچھ عرصہ واشنگٹن میں رہے اور پھر پٹس برگ میں متعین ہوئے۔اس جگہ بڑی محنت و مستعدی اور اخلاص کے ساتھ تبلیغی فرائض سرانجام دیتے رہے۔۷ نومبر ۱۹۶۷ء کو آپ واپس ربوہ آئے۔۱۶ / اکتوبر ۱۹۶۹ء کو آپ کو دوبارہ امریکہ بھیجا گیا اور دونوں دفعہ احمدیہ مشن امریکہ کے انچارج ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض بڑی کامیابی کے ساتھ ادا کرتے رہے۔امریکہ میں دیگر تبلیغی، تربیتی اور تنظیمی امور کی سرانجام دہی کے علاوہ آپ رسالہ مسلم سن رائز کی ادارت کے فرائض بھی بڑی کامیابی کے ساتھ ادا کرتے رہے۔تبلیغ دین میں آپ کے انہماک اور آپ کی بے لوث مخلصانہ جد و جہد سے عیسائی معززین بھی بہت متاثر ہوتے تھے۔۱۹۶۷ ء میں جب آپ کلیولینڈ سٹی تشریف لے گئے تو وہاں کے مئیر کی طرف سے ایک خاص تقریب میں بطور اعزاز شہر کی چابی آپ کو پیش کی گئی۔145 چوہدری صاحب کو تحریک جدید کے پانچیزاری مجاہدین میں شامل ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔احمد یہ مشن امریکہ کے ترجمان نے رسالہ ” دی مسلم سن رائز (واشنگٹن) کے شمارہ نمبر ۱ ، ۱۹۷۲ء کا ایک خاص ضمیمہ شائع کیا جس میں ایڈیٹر رسالہ اور قائمقام انچارج مشن نے آپ کی علالت ، وفات، تجهیز و تکفین ، جنازہ کے ڈیٹن سے ربوہ منتقل کرنے اور امریکن احمدیوں کے جذبات محبت و تعزیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:۔