تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 263 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 263

تاریخ احمدیت۔جلد 28 263 سال 1972ء صاحب میری پڑھائی چھڑوانے پر مجبور ہو گئے اور میں پھر گھر پر آ گیا۔وہاں میرے والد صاحب مرحوم کے ایک دوست جن کا نام حاجی رحمت اللہ صاحب تھا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص صحابی تھے انہوں نے میرے والد صاحب مرحوم کو کہا کہ ان کو میرے پاس بھیج دیا کریں۔میں ان کے ان خیالات کو دور کرنے کی کوشش کروں گا۔وہ بزازی کی دکان کرتے تھے۔میں سارا دن ان کے پاس بیٹھا رہتا اور وہ مجھے حضور علیہ السلام کا لٹریچر پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔اس سے مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی شخص کے دردناک زخموں پر کوئی دوسرا شخص کسی مسکن (Soothing) مرہم کا چھا یہ رکھ رہا ہو۔جوں جوں میں ان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لٹریچر سنتا تھا میرے سوالات خود بخود حل ہوتے چلے جاتے تھے۔آخر ایک احمدی صحابی حکیم غلام محمد صاحب مرحوم والد بزرگوارم سے اجازت لے کر مجھے قادیان چھوڑ آئے۔اس وقت حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا۔۱۹۱۰ء کی بات ہے کہ ہم نے لنگر خانہ میں قیام کیا اور رات دن قرآن شریف اور حدیث شریف کا درس سنتا رہا۔مسجد مبارک میں جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھتا اور اکثر خلیفہ اول کی صحبت مبارک میں بیٹھا رہتا تھا۔حضور خاص طور پر مجھے اپنی نظر شفقت میں رکھتے۔پس آہستہ آہستہ انہوں نے میرے دل میں ایسا کوئی سوال باقی نہ رہنے دیا جس کو انہوں نے دلائل کی روشنی میں حل نہ کر دیا ہو۔اس طرح پر میں بدنی اور روحانی طور پر بالکل تندرست ہو گیا اور اس سال حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔صوفی صاحب ۱/۸ حصہ کے موصی تھے اور تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔آپ کے صاحبزادے محترم پروفیسر صوفی بشارت الرحمن صاحب نے آپ کے حالات میں تحریر کیا ہے کہ قادیان کے زمانے میں حضرت حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کے ساتھ مل کر والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” سیرۃ الابدال کا (جو بہت ہی مشکل عربی تصنیف ہے) اردو تر جمہ کیا۔جو قادیان میں میرے پاس موجود تھا۔143 چوہدری عبد الرحمن صاحب بنگالی (مجاہد امریکہ ) (وفات ۱۶ مئی ۱۹۷۲ء) آپ برہمن بڑی ضلع کمیلا (بنگلہ دیش) کے ایک با اثر زمیندار اور پٹھان خاندان کے چشم و چراغ تھے اور اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ۷ ستمبر ۱۹۲۹ء144 کو زمانہ طالب علمی میں قبول حق کی توفیق بخشی جس کے بعد آپ کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا حتی کہ آپ کو گھر سے