تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 262
تاریخ احمدیت۔جلد 28 262 سال 1972ء گرم مباحثے اور مناظرے دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوا۔دوسری طرف ڈارون (Darwin) اور دوسرے دنیا کے فلاسفروں کے نظریات (Theories) کو پڑھنے کا مجھے اتفاق ہوا۔ان باتوں نے میرے دماغ میں عجیب کشمکش پیدا کر دی اور میرا دل میری روح اور میرے جسم کا ذرہ ذرہ اس طرف مائل ہو گیا کہ میں دریافت کروں کہ حقیقت کہاں پوشیدہ ہے۔ایک طرف سائنس کہتی ہے کہ آسمان کا وجود کوئی نہیں یہ تو صرف حد نگاہ ہے۔دوسری طرف مولوی لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ نے تکلیفوں سے بچانے کے لئے اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ اٹھا لیا اور اب تک بلا خوردو نوش وہاں زندگی بسر کر رہے ہیں۔میرا رجحان ڈارون کی تھیوری کی طرف تھا جو یہ کہتی تھی کہ ارتقائی طور پر ترقی کرتے کرتے بندر سے انسان کا وجود ظہور پذیر ہوا ہے مگر دوسری طرف اس وقت کے مولویوں کے پیش کردہ اسلام سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ یہ عالم حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے شروع ہوا ہے اور اس سے پہلے خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ ) معطل بیٹھا تھا۔دوسرے یہی مولوی لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کلام الہی ختم ہے اس کے متعلق میرے دماغ میں یہ خلجان تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ بیس ہزار پیغمبروں سے کلام کرتا رہا۔اب ہمیشہ کے لئے اس نے اپنے پرستار بندوں سے کلام کرنا بند کر دیا۔گو یا خدا تعالیٰ کی صفت کلام بھی معطل ہوگئی۔میں اِن سوالات کو لے کر اپنے دینیات کے پروفیسر مولوی روحی صاحب کے پاس گیا۔پھر لاہور کے بڑے بڑے مولویوں سے بھی ملا لیکن سب نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ یہ سب کافرانہ اور ملحدانہ خیالات فاسدہ ہیں۔تین چار دفعہ لاحول پڑھ کر اپنے بائیں طرف تھوک دیا کرو۔پھر یہ تمام خیالات فاسدہ دور ہو جائیں گے۔میں نے ان کو کہا کہ میں سینکڑوں دفعہ لاحول پڑھ کر تھوکتا ہوں مگر یہ خیالات دور نہیں ہوتے۔خلاصہ کلام یہ کہ یہ مولوی میری کچھ بھی تسلی نہ کرا سکے۔بلکہ میری پریشانی میں اور اضافہ ہو گیا۔پڑھائی سے میرا دل اچاٹ ہو گیا۔میں اکثر بیمار رہنے لگا۔اس اثناء میں میرے والد صاحب کو ریواز ہوٹل (Rivaz Hostal) کے سپرنٹنڈنٹ نے جالندھر خط لکھا کہ ان کو کچھ مہینوں کی چھٹی دلا کر گھر لے جائیں۔ان کے خیالات بڑے عجیب وغریب ہیں۔ان کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا۔پھر چند دن کے بعد میرے والد صاحب مجھے جالندھر واپس لے گئے۔وہاں گھر میں آزاد رہ کر میری صحت کچھ بحال ہوئی تو پھر انہوں نے پڑھنے کے لئے مجھے کالج بھیج دیا۔لیکن پھر انہی خیالات نے آ قبضہ جمایا۔آخر کار سپرنٹنڈنٹ اور لڑکوں کے کہنے پر میرے والد