تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 261
تاریخ احمدیت۔جلد 28 مهتاب بی بی صاحبہ 261 سال 1972ء (وفات ۱۲ مئی ۱۹۷۲ ء ) مهتاب بی بی صاحبہ حضرت مرزا غلام رسول صاحب پشاوری کی اہلیہ محترمہ تھیں۔آپ بہت سادگی پسند، پابند صوم و صلوۃ ، تہجد گزار، متقی، پرہیز گار، مخلص احمدی اور مجسم اخلاق خاتون تھیں۔بڑی ہی خوش مزاج صلح کن، کھلے ماتھے والی اور باغ و بہار وجود تھیں۔مزاح کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ایک دفعہ کوئی ان سے مل لیتا تو پھر کبھی نہ بھولتا۔مہمان نوازی میں بے مثال تھیں۔مہمان کو رحمت اور برکت کا باعث سمجھتیں۔پندرہ پندرہ میں ہیں مہمان آجائیں لیکن مجال ہے کہ ماتھے پر شکن لائیں۔آپ بہت ہی صدقہ و خیرات کرنے والی بی بی تھیں۔کسی کو خالی ہاتھ نہ لوٹاتی تھیں۔کسی غریب کو کپڑا دینا ہوتا تو ہمیشہ نیا یا ایک دو دفعہ کا استعمال شدہ دیتیں۔اگر کوئی کہتا کہ اماں ابھی تو آپ نے سے پہنا بھی نہیں ہے تو کہتیں خیر ہے کسی کو ایسی چیز دینی چاہیے جسے وہ کچھ دیر استعمال بھی کر سکے۔اپنے گھسے ہوئے کپڑے دوں گی تو اس کو کتنے دن فائدہ ہوگا۔مکرم مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے والد صاحب کو ایک دو مہینہ کی تنخواہ نہ ملی۔پیسے جو تھے وہ سب خرچ ہو گئے صرف اماں کے پاس چند آنے رہ گئے۔اسی وقت ایک سوالی مانگنے آیا تو وہ پیسے بھی اسے دے دیئے۔سب نے کہا رہنے دیں کسی کام آجائیں گے۔کہنے لگیں خدا اور دے دیگا۔ہوسکتا ہے وہ زیادہ ضرورت مند ہو کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر بعد والد صاحب آئے اور بتایا کہ مجھے آج اکٹھی تنخواہ مل گئی ہے۔خدا نے بہت فضل کیا ہے۔بہت ہی دعا گو اور عبادت گزار تھیں۔ساری ساری رات بیٹھ کر دعا ئیں کرتیں اور عبادت کرتیں۔آپ نے مورخہ ۱۲ مئی ۱۹۷۲ء کو وفات پائی۔اگلے روز مورخہ ۱۳ مئی کو احاطہ مسجد مبارک میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے از راہ شفقت آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔142 صوفی عطا محمد صاحب آف را ہوں ضلع جالندھر ( وفات ۱۳ مئی ۱۹۷۲ء بعمر ۸۰ سال) آپ صوفی بشارت الرحمن صاحب مرحوم ( سابق وکیل التعلیم ) کے والد ماجد تھے۔آپ اپنے حالات تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب میں اسلامیہ کالج لاہور میں آغاز مئی ۱۹۰۸ء میں سال اول میں داخل ہوا تو اس وقت مجھے آریوں، ہندوؤں، عام مسلمانوں، عیسائیوں اور احمدیوں کے گرما