تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 260
تاریخ احمدیت۔جلد 28 260 سال 1972ء حکیم صاحب حضرت خلیفہ مسیح الا ول مولانا نورالدین صاحب کے خاص طبی تلامذہ میں سے تھے۔جنہوں نے دسمبر ۱۹۰۸ء میں بیعت کی۔140 جنہیں پہلے قادیان اور پھر ہجرت ۱۹۴۷ء کے بعد گوجرانوالہ میں ۶۲ سال تک نہایت وسیع پیمانے پر خدمتِ خلق کی توفیق ملی۔جیسا کہ خود لکھتے ہیں کہ :۔”خاکسار حکیم نظام جان اینڈ سنز دواخانہ معین الصحت نے استاذی المکرم قبلہ نور الدین شاہی طبیب سرکار جموں و کشمیر سے طب سبقاً پڑھی اور حضور کے حکم سے ۱۹۱۰ء سے دواخانہ مذکور قائم ہوا اور اٹھرا کا مجرب ترین علاج حب اٹھرا کا حضور کے ارشاد سے اشتہار دیا تا کہ خلق خدا فائدہ حاصل کرے۔قادیان دارالامان کے پہلے تاجر کتب میاں محمد یا مین صاحب کی کتاب قادیان گائیڈ (مطبوعہ ۲۵ نومبر ۱۹۲۰ء صفحہ ۱۳ ) میں دواخانہ نظام جان عبد الرحمن کا غانی قادیان کا ذکر موجود ہے۔شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر الحکم قادیان نے اپنی کتاب ' مرکز احمدیت قادیان (مطبوعہ ۱۹۴۲ء) کے صفحہ ۴۱۶ پر قادیان کے طبی عجائبات میں آپ کے دواخانہ کو بھی شامل کیا ہے۔آپ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔آپ کو اپنی زندگی میں کئی ابتلاؤں سے گذرنا پڑا مگر ہمیشہ استقلال اور ثابت قدمی سے اپنے مولا کی رضا پر شا کر وقائع رہے۔آپ کے بیٹے حکیم عبدالحمید صاحب ناظم المشہو ر دواخانہ گوجرانوالہ تحریر فرماتے ہیں:۔ابا جی نہایت صابر ، متوکل ، کشادہ دل اور شفیق وجود تھے۔ہمیشہ غریب پروری اور قربانیوں میں پیش پیش رہتے۔صلہ رحمی اور قرابت داروں کی امداد آپ کیا کرتے۔غریب مریضوں کا بلا معاوضہ علاج کرتے یا زیادہ غریب مریض جو حسب ضرورت غذا دوا کے ساتھ نہ کھا سکتے انہیں اپنے پاس سے دودھ وغیرہ کے لئے کچھ دے دیتے۔یتیموں اور ناداروں کی خبر گیری رکھتے۔ان کی حصول تعلیم میں معاونت فرماتے۔مقامی مسجد باغبانپورہ میں لاؤڈ سپیکر آپ ہی نے لگوایا۔امام وقت کی ہر تحریک میں بشاشت سے حصہ لیتے۔فرمایا کرتے تھے یہ سب قدرت ثانیہ کے مظہر اول ( حضرت مولانا نورالدین) کی دعاؤں کا اثر ہے کہ میں نے ان کے نسخہ جات سے اس قدر لبی مدت تک خلق خدا کی خدمت کی توفیق اور جماعت میں شہرت پائی۔ورنہ مجھ سے۔۔۔۔۔لائق آپ کے بے شمار شاگرد تھے۔141