تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 17 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 17

تاریخ احمدیت۔جلد 28 17 سال 1972ء نے پیٹھ نہیں دکھائی حتی کہ عکرمہ جیسے شخص نے پیٹھ نہیں دکھائی جو فتح مکہ تک اسلام کا دشمن رہا تھا۔کیونکہ عکرمہ اور اس جیسے دوسرے مسلمانوں کے دل بدل گئے ، حالات مختلف ہو گئے ، اندھیروں کی جگہ نور نے لے لی۔وہ جو اسلام کے دشمن تھے ان کے دل میں محبت پیدا ہو چکی تھی۔عکرمہ اور اس کے ساتھی اس خیال سے جلتے تھے کہ انہوں نے اپنے چہروں پر اسلام دشمنی کے داغ لگارکھے ہیں۔ان داغوں کو دھونے کے لئے خدا جانے ہمیں کوئی موقع ملتا ہے یا نہیں۔پس یہ لوگ بھی جو بعد میں آنے والے تھے دشمن کے مقابلے میں بھاگے نہیں کسی نے بزدلی نہیں دکھائی وہ خدا تعالیٰ سے نا امید نہیں ہوئے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بدظنی نہیں کی بلکہ کئی ایک نے اپنی جان دے کر من قضى نحبه خدا تعالیٰ سے اپنا عہد پورا کر دیا اور اس طرح انہوں نے اپنے لئے جنتوں کے سامان پیدا کئے اور پیچھے رہنے والوں کے لئے فتح کے سامان پیدا کر دیئے۔غرض اس جنگ میں جب مسلمانوں کا کرب اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور تمثیلی زبان میں وہ آخری وقت یعنی عصر کا وقت آگیا تو کہنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت یرموک کے میدان میں رومی اپنے پیچھے شاید ڈیڑھ لاکھ لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔حالانکہ پہلے چار دنوں میں رومی یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان تو مٹھی بھر ہیں یہ بیچ کر کیسے جائیں گے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہم اڑھائی لاکھ ہیں اور مسلمان صرف چالیس ہزار۔اس لئے وہ مسلمانوں کو مٹادیں گے۔غرض اس نیت کے ساتھ رومی آئے تھے کہ اس میدان میں سارے مسلمانوں کو قتل کر دیں اور اس فتنے کو ( جو اُن کے نزدیک فتنہ تھا ) ہمیشہ کے لئے مٹا دیں گے مگر جسے وہ فتنہ سمجھتے تھے اور جس کے مٹانے کے در پے تھے۔اس نے ان کے خون کو کھاد بنا کر انہی کے علاقوں میں اسلام کے درختوں کو بویا جنہوں نے بڑے اچھے پھل دیئے۔۔۔یوسف بن تاشفین کا واقعہ ہے جو پین میں رونما ہوا وہ افریقہ کے رہنے والے تھے میں نے تمثیلی رنگ میں عصر کے وقت کا ذکر کیا ہے مگر ان کے اس واقعہ میں عملاً عصر کا وقت ہی تھا جب انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی۔“