تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 259
تاریخ احمدیت۔جلد 28 259 سال 1972ء قطب شاہی اعوان خاندان کے چشم و چراغ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی ہدایت کا موجب بنا، چنانچہ تحریر فرماتے ہیں:۔اگرچہ میرے کانوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام تو پڑ چکا تھا اور یہ مجھے علم تھا کہ پنجاب میں ایک شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن بچہ ہونے کی وجہ سے میں تفصیل سے واقف نہ تھا۔یہ ۱۹۰۷ء کی بات ہے۔میں اس وقت ۶ سال کا تھا اور تعلیم کے حصول کے لئے موضع دانہ تحصیل مانسہرہ ضلع ہزارہ کی مسجد میں مقیم تھا۔وہیں مولوی محمد یامین صاحب ایک پر جوش احمدی رہتے تھے جو ہر وقت احمدیت کی تبلیغ کیا کرتے لیکن مجھے کبھی بھی ان کی باتیں سنے یا قریب بیٹھنے کا خیال نہیں آیا۔ایک روز کسی غیر احمدی سے وہ مسجد کے صحن میں بحث کر رہے تھے وہ غیر احمدی کوئی بہت ہی بد بخت انسان تھا جب وہ دلائل کے ساتھ بات نہ کر سکا تو اس نے محمد یا مین کے دل کو ڈ کھانے کی خاطر کہا ( نقل کفر کفر نہ باشد ) ”مرزا صاحب کو تو کوڑھ ہے (نعوذ باللہ ) اُس کے ہاتھ اور پاؤں گلے ہوئے ہیں اور ان پر ہر وقت لکھیاں بھنبھنا یا کرتی ہیں (نعوذ باللہ من ذالک الخرافات) میں اس وقت تک مرزا صاحب کو مانتا ہی نہ تھا میں تو فقط ان دونوں کی باتیں سنے کو پاس کھڑا ہو گیا تھا لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ آج قدرت میرے دل اور روح پر کوئی تیر چھوڑنے والی ہے میرے ہوش و خرد پر کوئی روحانی بجلی کوند نے والی ہے۔محمد یا مین نے جب اس ذلیل انسان کی یہ بد زبانی سنی تو انتہائی ضبط وصبر سے وہ اٹھے اور کہنے لگے ”میرے پاس مرزا صاحب کا فوٹو ہے تمہیں میں وہ دکھاتا ہوں دیکھو بھلا انہیں کب کوڑھ ہے یہ کہ کر وہ اندر گئے اور بکس میں سے آپ کا پورا فوٹولا کر اس شخص کے سامنے کر دیا۔میں بھی اس شخص کی پشت کی طرف کھڑا تھا وہ فوٹو اس شخص کے سامنے نہیں آیا بلکہ میرے بھی سامنے آ گیا۔اس مبارک شکل کا سامنے آنا تھا کہ مجھ پر سکتہ کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور میں اس تصویر کی وسعتوں میں کھو گیا۔وہ مبارک چہرہ وہ پاک شبیہ۔میری نظروں نے اسے دیکھا اور دل نے کہا کہ یہ شخص کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا۔یہ شکل قریب نہیں کرسکتی۔میں نے اگر چہ اظہار تو نہ کیا لیکن دل نے اسی وقت قبول کر لیا کہ جو کچھ یہ شخص کہتا ہے ٹھیک ہے۔یہی مہدی ہے یہی وقت کا امام ہے۔مجھے احمدیت میں لانے کا باعث حضور علیہ السلام کا فوٹو تھا اور میں نے اس فوٹو کو دیکھ کر کچھ ایسا روحانی اثر محسوس کیا تھا جس نے صداقت کے تسلیم کرنے پر مجھے مجبور کر دیا۔