تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 258
تاریخ احمدیت۔جلد 28 258 سال 1972ء مرحوم نے مشرقی افریقہ میں ہی احمدیت قبول کی۔ان دنوں آپ ٹانگا شہر میں مقیم تھے۔خاکسار جب پہلی دفعہ ۱۹۳۴ء کے اواخر میں مشرقی افریقہ پہنچا تو اس وقت مرحوم طبو را ( ٹانگا نیکا) میں ریلوے میں ملازم تھے اور وہاں کی جماعت کے صدر تھے۔مرحوم کی دعوت پر خاکسار اپریل ۱۹۳۵ء کے آخری نصف میں طبورا پہنچا۔افریقنوں میں تبلیغ کے لئے جو اہتمام دوسرے احمدی افراد کے ساتھ مل کر مرحوم نے کیا اس کے نتیجہ میں سینکڑوں افریقن زیر تبلیغ آنے والے افریقنوں کی مہمان نوازی اور تواضع میں مرحوم شیخ صاحب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔علاوہ ازیں اردگرد کے ایشین احمدی مرحوم شیخ صاحب کے گھر میں مقیم ہوتے اور آپ ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر اٹھانہ رکھتے۔طیبو را میں اپنی صدارت کے زمانہ میں مرحوم شیخ صاحب اور دوسرے چند ایشین احمدی دوستوں نے ایک قطعہ زمین Gongoni کے محلہ میں نیلامی میں خرید کیا۔جس پر بعد میں خاکسار نے دومشن ہاؤس جو چار چار کمروں پر مشتمل تھے اور باہر سے ایک مکان کی صورت میں نظر آتے تھے تعمیر کروائے۔اسی مکان کے ایک حصہ میں لمبے عرصہ تک خاکسار بطور مبلغ مقیم رہا اور دوسرا حصہ کرایہ پر دیا گیا۔شیخ صاحب مرحوم مشن ہاؤس اور مسجد عبورا کی تعمیر کے علاوہ مشرقی افریقہ کی جملہ مساجد کے لئے اور دیگر اشاعت اسلام کے کاموں میں اپنی توفیق کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔کشتی نوح کا سواحیلی زبان میں ترجمہ کیا گیا تو جس قدر رقم خاکسار نے شیخ صاحب مرحوم کے ذمہ لگائی اسی قدر بڑے خلوص سے ادا کر دی۔تمام مرکزی تحریکوں میں حصہ لیتے اور اس پر خوش ہوتے۔۔۔۔۔صاحب کشف ورؤیا تھے۔ایک دفعہ مجھے بتانے لگے کہ خواب میں دیکھا ہے کہ لنڈی کے علاقہ سے بیعت فارم پر ہو کر آپ کے پاس آ رہے ہیں۔چنانچہ خاکسار نے اس علاقہ میں مزید سواحیلی لٹریچر بھجوایا۔مبلغین کی تقرری کی۔اس علاقہ کے بعض مخلص افراد کوٹریننگ دے کر بطور معلم تبلیغ کے لئے مقرر کیا۔مبلغین اور معلمین کی مساعی کے نتیجہ میں اس علاقہ میں احمدیت کو قبولیت حاصل ہوئی اور خاصی تعداد میں افریقنوں نے احمدیت قبول کی اور ان کی طرف سے بیعت فارم پر ہو کر آئے جو مرکز میں بھجوائے گئے“۔139 حکیم نظام جان صاحب کا غانی (وفات ۱۲ مئی ۱۹۷۲ء)