تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 252
تاریخ احمدیت۔جلد 28 252 سال 1972ء واشگاف الفاظ میں کیا۔اس کے خلاصہ کو ہندوستان کے معروف صحافی اور زمیندار اخبار کے مالک مولوی ظفر علی خان نے مندرجہ ذیل اشعار میں نظم کیا۔سنا ہے کہ اک آگرے کا مسافر اٹھائے ہوئے سر پہ ویدوں کے بستے نمستے علیکم علیکم نمستے پہنچ کر عراق و عرب میں للکارا کبھی بھاؤ مہنگا تھا ہندو دھرم کا مگر اب اس جنس کے ہیں دام سستے مسخر کریں گے عرب اور عجم کو مها بیر دل کے گرانڈیل دستے بابو صاحب کا ان دنوں یہ مشغلہ تھا کہ تمام فارغ وقت مناظروں، جلسوں اور علمی مباحثوں میں بیٹھ کر گزارتے اور مسلمان علماء کی بے مائیگی کو دیکھ کر بڑے مایوس ہوتے۔اسلام پر جو کتب انہوں نے پڑھی تھیں ان میں بھی اسلام پر ان اعتراضات کا جواب نہ تھا اس لئے یہ ذہنی کشمکش میں رہتے۔ایک دن اپنے دکھ کا اظہار اپنے ایک رفیق کار محترم مرزا عبد الحکیم بیگ صاحب سے کیا۔مرزا صاحب اگر چہ صاحب علم تھے مگر کم گو تھے اس لئے کسی زبانی گفتگو کی بجائے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی کتاب مطالعہ کو دی۔پہلی کتاب نے ان کا دل موہ لیا اس طرح ان کو احمدیت کی طرف توجہ ہوئی اور اس واقعہ کے تھوڑا عرصہ بعد بیعت کر لی۔آپ ذہین آدمی تھے بات کو سمجھتے اور پھر اس کو دوسروں تک پہنچانے کی اہلیت رکھتے تھے۔اسلام سے عشق ، دل میں خلوص اس لئے دعوت الی اللہ کے لئے کمر بستہ ہو گئے چنانچہ تبلیغ دین ان کا محبوب مشغلہ بن گیا۔ان کا تمام فارغ وقت علمی مجالس میں گزرتا۔بڑے ہمت والے اور جرات مند تھے۔ایک دفعہ حکومت پاکستان نے حکم نامہ جاری کیا کہ کوئی شخص سرکاری دفتر میں اپنے ماتحت کو اپنے عقیدے کی تبلیغ نہیں کر سکتا۔اس حکم کے بعد آپ اپنے آفیسر میر محمد حسین صاحب پوسٹ اور ٹیلیگراف کے ڈائریکٹر جنرل سے جا کر ملے اور کہنے لگے کہ حکومت نے ماتحت کو تبلیغ کرنے سے منع کیا۔آپ نہ صرف میرے آفیسر ہیں بلکہ سارے محکمہ کے آفیسر اعلیٰ ہیں لہذا میری باتیں سن لیں۔اس طرح آدھ پون گھنٹہ جماعتی عقائد کے بارے تبلیغ کرتے رہے۔تبلیغ میں ان کی ایک اور مثال بھی قابل داد ہے۔ایک دفعہ غیر احمدی علماء نے اپنی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے بغیر جماعت سے رابطہ کئے مناظرہ کا اعلان کر دیا۔کس طرح ان کو مقررہ وقت سے قبل پتہ چل گیا یہ اپنے ایک ساتھی کو لے کر خاموشی سے