تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 251 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 251

تاریخ احمدیت۔جلد 28 251 سال 1972ء ریٹائر ہونے کے بعد بابا جی کو تھوڑی تھوڑی کھانسی رہتی تھی جس کا علاج احمد یہ شفاخانہ سے کرواتے رہتے تھے۔مگر خاطر خواہ آرام نہ آتا تھا۔کچھ عرصہ بعد آپ کو بخار بھی رہنے لگا۔جب کچھ ہفتہ دوائی کھانے پر بھی بخار نہ اتر اتو فکر ہوئی کہ کوئی اندرونی انفکشن ہے ورنہ بخار اتنا طول نہ پکڑتا اس لئے امرتسر ہسپتال میں داخل کر کے ان کے پورے چیک اپ کرائے گئے اس پر معلوم ہوا کہ باباجی پر TB کا حملہ ہوا ہے۔امرتسر کے نسخہ کے مطابق علاج شروع کر دیا گیا۔علاج مسلسل دو سال تک ہونا تھا جو جاری رہا اور وقتاً فوقتاً امرتسر لے جا کر معائینہ بھی کروایا جا تا رہا۔جوں جوں علاج کیا فائدہ کی بجائے بیماری اور کمزوری بڑھتی چلی گئی اور آخر بیماری نے غلبہ پالیا اور اامارچ ۱۹۷۲ء کا دن غروب ہوتے ہوتے بابا محمد اسمعیل صاحب وفات پاگئے۔آپ نے سارا زمانہ درویشی عملاً تحجر د میں ہی گزارا اہلیہ غالباً وفات پا چکی تھیں اور بچے سب پاکستان جاچکے تھے۔اگلے روز بابا جی کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔132 با بو اللہ داد خان صاحب آف کراچی (وفات ۱۴ مارچ ۱۹۷۲ء) چوہدری اللہ داد خانصاحب المعروف بابا اللہ داد راولپنڈی میں پیدا ہوئے ، کراچی آکر آباد ہوئے۔محکمہ پوسٹ آفس میں ملازم ہوئے اگر چہ ملازمت اور زندگی کا بیشتر حصہ کراچی میں گزرا مگر جنگ عالمگیر دوم کے دوران پوسٹ آفس میں بھی کام کرنا پڑا۔اس لئے کولمبو، کلکتہ اور رنگون بھی گئے۔جنگ کے بعد واپس کراچی بھیج دیئے گئے۔ریٹائر منٹ تک بقیہ ملازمت کا عرصہ یہیں گزرا۔بابو صاحب سادہ یورپین لباس پہنتے اس کے ساتھ سفید پگڑی استعمال کرتے۔بڑے علم دوست ، ذہین اور بڑی پختہ یادداشت کے مالک تھے۔اسلام سے والہانہ عقیدت اور تبلیغ دین سے عشق تھا۔تمام مکاتب فکر کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔اس لئے مختلف مسالک کے عقائد سے اچھی طرح واقف تھے۔غالباً ۱۹۲۸ ء کی بات ہے ان کی جوانی کا زمانہ تھا ان دنوں تمام ہندوستان میں آریہ فرقہ کے ہندو مبلغین نے اسلام کے خلاف یلغار کی ہوئی تھی۔لٹریچر، جلسوں اور پبلک مناظروں میں آریہ منا داہل اسلام کوللکار رہے تھے۔ان کے عزائم یہ تھے کہ اسلام کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا جائے چنانچہ آریہ اخبار مسافر“ جو آگرہ سے شائع ہوتا تھا نے ایک لمبا مضمون لکھا اور اپنے اس عزم کا اظہار