تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 250
تاریخ احمدیت۔جلد 28 250 سال 1972ء ہوئے۔سب لوگ آپ سے ہی فیصلہ کراتے تھے۔آپ کے بیٹے چوہدری بشیر احمد صاحب ٹیچر ہائی سکول ربوہ کا بیان ہے کہ اپنی صداقت شعاری کی وجہ سے آپ اشد مخالفین میں بھی مشہور تھے۔ہمیشہ سچی گواہی دیتے۔میرے ایک بھائی ایک دفعہ ایک فوجداری جرم کے سلسلہ میں گرفتار ہو گئے۔ان کے ساتھ بعض اور افراد بھی تھے جو یونہی اس جرم میں شریک کر لئے گئے۔آپ نے عدالت میں اپنے بیٹے کے جرم سے متعلق سچی گواہی دی۔وکلا نے منع بھی کیا لیکن آپ باز نہ آئے۔اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کی سچی گواہی کی لاج رکھ لی اور سیشن جج کی عدالت سے سب کو بری کر دیا گیا اور آپ کو قبل از وقت بتا دیا کہ ”مرالہ والے بری ہو گئے"۔اللہ بخش صاحب آف جھنگ ( وفات ۱۷۔۱۸ فروری ۱۹۷۲ء) 130- جماعت احمد یہ لولے ضلع جھنگ کے ایک نہایت ہی مخلص اور سلسلہ کے فدائی مکرم احمد بخش صاحب کے سولہ سترہ سال کے نوجوان صاحبزادے اللہ بخش صاحب مورخہ ۱۷۔۱۸ فروری ۱۹۷۲ء کی درمیانی شب کو محاذ پر سردی لگ جانے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔یہ موت بھی ایک طرح شہادت کا رنگ رکھتی ہے۔اللہ بخش صاحب گو بہت کم عمر تھے مگر احمدیت کے لئے بہت غیرت تھی۔131 بابا محمد اسمعیل صاحب ولد محمد عبد اللہ صاحب (وفات ۱۱ مارچ ۱۹۷۲ء) آپ ان کا رکنان میں سے تھے جنہیں قادیان میں رکھے جانے کا فیصلہ تھا۔جب ۱۹۵۰ء میں دفاتر کی از سر نو تنظیم عمل میں آئی تو بابا جی کو پھر دفتر بیت المال میں بطور مددگار کارکن مقرر کیا گیا اور آپ ریٹائرمنٹ کی عمر تک دفتر بیت المال میں ہی خدمات بجالاتے رہے۔آپ جب دفتر بیت المال میں ۱۹۴۷ء سے قبل ملازم ہوئے تھے تو انہی ایام میں محترم شیخ عبدالحمید صاحب عاجز نائب ناظر بیت المال مقرر ہوئے تھے۔زمانہ درویشی میں مکرم شیخ عبدالحمید صاحب عاجز ہی زیادہ عرصہ ناظر بیت المال رہے۔بابا جی بھی ان کی ماتحتی میں کام کرتے کرتے گویا ان کے فیملی ممبر کی طرح ہو گئے تھے۔ریٹائر ہونے کے بعد بھی آپ محترم شیخ عبدالحمید صاحب عاجز کی فیملی کے ساتھ ہی منسلک رہے۔آپ فتح گڑھ چوڑیاں کے رہنے والے تھے قادیان میں ملازمت مل جانے کی وجہ سے آپ قادیان میں ہی آبسے۔