تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 247
تاریخ احمدیت۔جلد 28 247 سال 1972ء کچھ عرصہ کے بعد قیوم نظر آئے ، قیوم نظر نے تنویر کے بارہ میں کہا یہ وہ لوگ ہیں جن کا کلام پڑھ پڑھ کے ہم شاعر بن گئے ہیں“۔ایک مجلس میں جناب تنویر کا کلام سنتے ہوئے کچھ شوریدہ سرلڑکوں نے شور مچایا تو جعفر طاہر آگ بگولا ہو کر اٹھے اور لوگوں سے کہا کہ ”ہم اس شاعر کی زیارت کے لئے آئے ہیں اور آپ ان کا کلام نہیں سنتے۔یہ سب باتیں پے بہ پے ہوئیں لیکن ہم نئی نسل کے لوگ جناب تنویر سے پھر بھی آشنا نہ ہوئے اور اب جب جناب تنویر اس دنیا میں نہیں ہیں تو نئی نسل کے لوگوں کو بہت یاد آ رہے ہیں کیونکہ نئے شعری تجربے اور غزل کی موجودہ تجریدی، فنی اور فکری بوقلمونیوں کی اساس عبوری دور کے شعری سرائے پر ہی استوار ہے۔اگر جگر ، حسرت، فانی، اصغر اور اقبال کو نکال دیں تو اردو غزل کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔جناب تنویر اس دور کے شاعر تھے۔یہ ہماری خوش بختی تھی کہ وہ ہمارے زمانہ تک زندہ رہے اور انہوں نے فکری صلاحیتوں اور شعری کمال آفرینیوں کو ایک خاص مقصد کے لئے وقف کر کے یہ بات ثابت کر دی کہ غزل یا نظم محض تخیلاتی پیکروں کے تراشیدن، پرستیدن شکستن کا نام نہیں، واضح مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بھی غزل کی نزاکت قائم رکھی جاسکتی ہے۔اقبال نے غزل میں فلسفہ بیان کیا تھا جناب تنویر نے غزل میں دینیات کا درس دیا۔جناب تنویر بنیادی طور پر نظم گو تھے۔نظم گو کے ہاں ایک غیر محسوس سی اجتماعیت پسندی کا رجحان نمایاں ہوتا ہے۔نظم لفظوں کو رشتہ فکر میں پرونے کا نام ہے۔غزل کا ہر شعر از بسکہ اپنی ذات میں مکمل اکائی اور وحدت کا حکم رکھتا ہے۔اس کے تمام شعر ایک اساسی مزاج کے رشتے میں منضبط ہوتے ہیں۔جناب تنویر نے ۱۹۴۰ء کے بعد اپنی قوت شعر گوئی کو احمدیت کی تبلیغ و اشاعت کے لئے وقف کر دیا اور اس طرح ایک نظم گو کی مہارت اور غزل گوئی ایمائیت پسندی کا سہارا لے کر پیغام احمدیت کو ہر گوشِ سخن نیوش تک پہنچانے کی سعی کی مسیح وقت کی آواز ہے سنو تو سہی دم مسیح زمان است نعره زن برخیز نئے جہان کا آغاز ہے سنو تو سہی بجان تازه وگر ا ز تن کهن بر خیز اذ ان اٹھی ہے پھر مسجد مبارک سے مثال برگ خزاں دیده تا کجا مانی و ہی بلال کا انداز ہے سنو تو سہی گل بها رشو ا ز سینه چمن بر خیز