تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 246
تاریخ احمدیت۔جلد 28 246 سال 1972ء احسن رنگ میں نبھایا۔اس اثناء میں جماعت احمدیہ پر ہجرت قادیان ۱۹۴۷ء اور فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء جیسے نازک وقت آئے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر موقع پر جماعت احمدیہ کی بہترین ترجمانی کرنے کی توفیق بخشی۔آپ کے قلم سے متعدد ایسے قیمتی اور اہم مضامین اور اشعار نکلے جو خدا کے خاص تائید و نصرت کے مظہر معلوم ہوتے تھے۔128 آپ کے اعزاز میں دفتر الفضل کی طرف سے مولانا قاضی محمد نذیر صاحب کی صدارت میں مورخہ ۷ جون ۱۹۷۱ء کو ایک الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔جناب مسعود احمد خانصاحب دہلوی ایڈیٹر الفضل نے الوداعی ایڈریس پڑھا جس میں آپ کے ۲۵ سالہ قلمی جہاد پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔مولا نا روشن دین صاحب تنویر اپنے دور کے ایک مثالی شاعر وادیب تھے اور ادب اردو میں نہایت بلند مقام رکھتے تھے چنانچہ پروفیسر ڈاکٹر پرویز پروازی صاحب ایم اے پی ایچ ڈی سابق صدر شعبہ اردو تعلیم الاسلام کا لج ربوہ تحریر فرماتے ہیں:۔اردو ادب کے عبوری دور میں ادبی دنیا “ اور ” نیرنگ خیال دو ایسے پرچے تھے جن میں چھپنا کسی شاعر کے لئے باعث استناد سمجھا جاتا تھا۔ادبی دنیا تاجور نجیب آبادی کی ادارت میں اور بعد میں ادیب شہیر مولانا صلاح الدین احمد کی ادارت میں مدتوں اردو کی خدمت کرتا رہا۔اس پرچہ کا معیار گویا زبان وادب کا معیار تھا۔اس دور میں اردو نظم نئی جہت سے آشنا ہو رہی تھی انجمن پنجاب کی وساطت سے حالی اور آزاد نے جس جدید شاعری کی بنیاد رکھی تھی ادبی دنیا اور نیرنگ خیال اس پر عمارت اٹھا رہے تھے۔نظم کے سلسلہ میں نئے تجربے ہیئت اور خیال کی جدت کے مظہر تھے۔نظم معتری نے نظم کے کلاسیکی پیکر کو متزلزل کر دیا تھا لیکن اس دور میں بھی بعض شاعر ایسے تھے جنہوں نے نظم کی کلاسیکی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی خیال کی ندرت اور طرز ادا کی دلر بائی کی وجہ سے اپنے فکر وفن کا لوہا منوالیا۔ان میں سے ایک جناب روشن دین تنویر تھے۔جناب تنویر مدتوں ہمارے درمیان موجو د رہے اور ہم ان کی زبان سے ان کا کلام سنتے رہے لیکن ہم جونئی نسل کے لوگ تھے ہمیں ان کے ادبی مقام کا صحیح اندازہ نہ تھا۔۱۹۵۴ء میں مولانا صلاح الدین احمد ربوہ تشریف لائے تو پہلا سوال مجھ سے یہ فرمایا کہ جناب روشن دین تنویر کو بلایا ہے؟ اور جب ان دو مرحوم بزرگوں کی ملاقات ہوئی تو مولانا نے ان کے بارہ میں ہمیں بتایا کہ ادبی دنیا کے ہر پرچہ میں میں فرمائش کر کے ان سے نظم منگوایا کرتا تھا۔