تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 245
تاریخ احمدیت۔جلد 28 245 سال 1972ء شیخ روشن دین صاحب تنویر ایڈیٹر "الفضل وفات ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء) آپ جماعت احمدیہ کے نامور صحافی ، اعلیٰ درجہ کے مضمون نویس اور عظیم شاعر تھے۔(ولادت ۱/۲۰ پریل ۱۸۹۲ء۔بیعت ۱۹۴۰ء)۔آپ نے سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔آپ کے استادوں میں شمس العلماء مولاناسید میر حسن صاحب بھی تھے جن سے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کو شرف تلمذ حاصل تھا۔۱۹۲۳ء میں لاء کالج لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور ۱۹۴۶ء تک وکالت کرتے رہے۔آپ کو شروع سے ہی شعر و شاعری سے تعلق تھا اور آپ بلند علمی وادبی ذوق رکھتے تھے۔۱۹۲۱ء سے ۱۹۴۵ء تک آپ کی متعدد نظمیں ملک کے مشہور رسائل ( مثلاً نیرنگ خیال، ہمایوں، نگار اور ادبی دنیا وغیرہ ) میں شائع ہوئیں اور بہت پسند کی گئیں۔126 آپ پہلی مرتبہ ۱۹۳۹ء کے جلسہ جو بلی کے موقعہ پر قادیان دارالامان تشریف لے گئے اور نظام سلسلہ اور حضرت مصلح موعود کی بے مثال تقاریر سے بہت متاثر ہوئے۔بایں ہمہ پکے غیر احمدی رہے۔قادیان سے روانگی کے بعد ریل میں اتفاقاً ایک احمدی سے حضرت مصلح موعود کی تقریر انقلاب حقیقی کے مطالعہ کا موقع ملا۔اس کتاب نے ایسا فوری اثر دکھایا کہ آپ دل سے احمدی ہو گئے اور سیالکوٹ واپس پہنچ کر بیعت کا فارم پر کر دیا (مبائعین کی فہرست میں آپ کا نام الفضل ۱/۴ پریل ۱۹۴۰ء صفحہ ۲ پر شائع ہوا )۔127 سلسلہ احمدیہ میں منسلک ہونے سے پیشتر بھی بحیثیت شاعر آپ کو شہرت حاصل تھی مگر احمدیت کے نور سے منور ہونے کے بعد آپ کی نظم و نثر میں خاص جوش اور ولولہ آفرینی پیدا ہوگئی اور آپ کی علمی و قلمی صلاحیتیں سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف ہو گئیں اور آپ کا شعر وسخن کا فطرتی ذوق خالصتاً احمدیت کے رنگ میں رنگین ہو گیا۔جس کے بعد آپ نے متعدد محققانہ مضامین احمدیت کے علم کلام کی تائید میں لکھے جو سلسلہ کے جرائد میں اشاعت پذیر ہوئے۔بالآخر سید نا حضرت مصلح موعود کی جو ہر شناس نظر نے آپ کو جماعت احمدیہ کے آرگن روز نامہ الفضل کی ادارت کے لئے چن لیا چنانچہ آپ سیالکوٹ سے ہجرت کر کے قادیان آگئے اور ۱۶ / اکتوبر ۱۹۴۶ء سے بطور رایڈیٹر الفضل کام کرنے لگے۔اس اہم اور نازک ذمہ داری کو آپ نے مسلسل ۲۵ برس یعنی اپریل ۱۹۷۱ء کے آخر تک نہایت