تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 243
تاریخ احمدیت۔جلد 28 243 سال 1972ء آمادہ ہو گئے اور کہا کہ میں بہت جلد وصیت کر کے اسے قانونی صورت دے کر آپ کو ارسال کر دوں گا۔لیکن یہ کام نامکمل ہی رہ گیا۔مرحوم بڑے مہمان نواز اور مبلغین کی خدمت کرنے والے بھائی تھے۔اپنے شہر ناندی میں بڑے باعزت، پسندیدہ اور ہر دلعزیز تھے۔چنانچہ ان کے جنازہ کے ساتھ قبرستان تک جانے والوں میں ہر مذہب وملت کے لوگ ہندو، سکھ اور عیسائی سب سینکڑوں کی تعداد میں موجود تھے۔123 مولوی محمد منشی خان صاحب آف ڈیریانوالہ وفات ۲۴ جنوری ۱۹۷۲ء) آپ ۱۹۱۸ ء میں مولوی اللہ دتہ صاحب آف خاناں میانوالی تحصیل نارووال کی تبلیغ سے داخل احمدیت ہوئے جس پر آپ کی تمام برادری کے قریباً سو کے قریب افراد نے بھی بیعت کر لی۔۱۹۳۹ء میں مقامی تبلیغ کے معلمین کی کلاس میں داخل ہوئے اور مختصر ٹرینگ کے بعد میدانِ تبلیغ میں نکل پڑے۔آپ کے ذریعہ متعدد افراد اور خاندانوں نے ہدایت پائی۔اسی دوران آپ نے چندہ نشر و اشاعت کے جمع کرنے کا فریضہ بھی کمال محنت اور تندہی سے انجام دیا۔آپ پر جوش مبلغ تھے اور پنجابی میں بلند آواز اور دلنشین پیرائے میں تقریر کیا کرتے تھے۔دورانِ تقریر دلچسپ واقعات ولطائف اوراپنی پنجابی نظموں کا حسین امتزاج اہل دیہات کے لئے بہت دلچسپی کا موجب ہوتا تھا اور سامعین کئی کئی گھنٹے بے تکان نہایت ذوق و شوق سے آپ کی تقریر سنتے تھے۔آپ جوش تبلیغ کے ساتھ ساتھ بے انتہا دینی غیرت بھی رکھتے تھے بالخصوص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس پر اگر کوئی نا پاک حملہ کرتا تو اس کے مقابل نہایت جرات اور جوانمردی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے اور ایک غیور مومن کی طرح مدافعت کر کے مجاہدانہ کردار ادا کرتے تھے۔124 محمد منشی خان صاحب کا ایک واقعہ بہت قابل قدر ہے جو ۱۹۵۸ء میں انہیں پیش آیا۔وہ سیالکوٹ سے نارووال جانیوالی ٹرین میں سوار ہوئے۔ڈبہ میں چار مناد پادری جن کے سر پر ٹوپ تھے بیٹھے تھے باقی سب مسلمان تھے۔بڑے پادری نے اٹھ کر اس ڈبہ میں تقریر شروع کر دی۔مسلمان خاموش ہو کر سننے لگے۔پادریوں نے کہا :۔اے مسلمان بھائیو! ایک دریا سے لوگوں کو پار جانا ہے پانی گہرا ہے دریا کے پین پر صرف دو