تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 242 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 242

تاریخ احمدیت۔جلد 28 242 سال 1972ء ۱۹۷۲ء میں وفات پانے والے مخلصین جماعت اس سال سلسلہ احمدیہ کے بہت سے دیگر مخلصین جماعت اور خدام دین داغ مفارقت دے گئے جن میں سے بعض کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔محمد جان خانصاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ناندی (نجی) (وفات ۲ جنوری ۱۹۷۲ء) جماعت احمد یہ نبی کے قدیم ریکارڈ کے مطابق تحریری بیعت کرنے والوں میں سے اول المبائعین تھے۔مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری مبلغ انچارج بھی تحریر فرماتے ہیں:۔مرحوم نہایت مخلص ، سلسلہ کے کاموں میں جوش و اخلاص سے حصہ لینے والے تبلیغ کا شوق رکھنے والے اور اسلام اور احمدیت کی خاطر ہر قربانی اور ہر تحریک میں حصہ لینے والے تھے۔پنجوقتہ نماز اور دیگر عبادات میں باقاعدگی کے علاوہ اپنے چندہ میں بھی با قاعدہ تھے۔اپنے بچوں اور چھوٹے بھائیوں کی دینی تربیت کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔باپ کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو پالنے اور انہیں پڑھانے اور کام کے قابل بنانے کی ذمہ داری کو بھی انہوں نے نہایت محنت سے نبھایا اور اپنے اثر و رسوخ اور نمونہ سے اپنے خاندان کے اکثر افراد کو احمدیت میں داخل کرانے کا موجب ہوئے۔ناندی میں مسجد اقصیٰ اور مشنری کوارٹرز وغیرہ کا افتتاح اور اس کے بعد دو روز تک تبلیغی اور تربیتی جلسہ ہوا اس کے انتظامات اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرنے اور اس تقریب کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے میں بھائی محمد جان خان با وجود بیمار ہونے کے دن رات کام کرتے اور کرواتے رہے۔۔۔۔مرحوم مالی قربانیوں میں بھی اکثر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مسجد اقصیٰ ناندی کے اخراجات کے حساب کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد کی عمارت پر ابھی ایک ہزار ڈالر قرض ہے۔چنانچہ جلسہ میں تحریک کی گئی تو بھائی صاحب کا وعدہ سب سے زیادہ یعنی ۱۰۰ ڈالر کا تھا۔اسی طرح ان کی وفات سے چند گھنٹے پہلے لٹو کا میں ۱۹۷۲ء کے دوران احمد یہ مسجد بنانے کی تحریک پیش کی گئی تو انہوں نے پھر اپنی اور جماعت ناندی کی طرف سے ۵۰۰ ڈالر کا وعدہ لکھوایا۔مرحوم کو خاکسار نے وصیت کرنے کی تحریک کی تو فوراً