تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 15
تاریخ احمدیت۔جلد 28 15 سال 1972ء مسلم سپین کے معرکہ نیز یوسف بن تاشفین کے واقعات پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ:۔اگر ہم اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہ بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ میں نے تمثیلی رنگ میں جس عصر کے وقت کا ذکر کیا ہے، اسی وقت بالعموم اللہ تعالی کی مدد نازل ہوتی رہی ہے۔چنانچہ کی زندگی کے بعد بدر کی جنگ تمثیلی رنگ میں عصر کے وقت لڑی گئی ہے کیونکہ اس سے پہلے مکی زندگی میں مسلمانوں کو ہر قسم کے دکھ پہنچائے گئے۔یہاں تک کہ اڑھائی سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو شعب ابی طالب میں بند رکھا گیا اور آپ کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا حتی کہ کفار مکہ کھانے پینے کی چیزوں تک کو اندر نہیں جانے دیتے تھے۔گو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو زندہ رکھنے کے سامان تو پیدا کر رہا تھا مگر آزمائش تھی امتحان تھا ( جو خدا ان کو زندہ رکھنے کے لئے کھانے کا انتظام کر سکتا تھا وہ ان کو صحت مند اور طاقتور رکھنے کا انتظام بھی کر سکتا تھا لیکن چونکہ مسلمانوں کی آزمائش تھی ) اس لئے ان کی تکلیف کی یہ حالت تھی کہ ایک بزرگ صحابی کہتے ہیں ایک دفعہ رات کے وقت میرا پاؤں ایک ایسی چیز کے اوپر پڑا جسے میرے پاؤں نے نرم محسوس کیا چنانچہ میں نے اسے اٹھایا اور کھا لیا لیکن مجھے آج تک پتہ نہیں لگا کہ وہ تھی کیا چیز۔غرض اس تکلیف دہ حالت تک وہ پہنچے ہوئے تھے گواڑھائی سال تک انسان بھوکا نہیں رہ سکتا۔ظاہر ہے محض زندہ رکھنے کے لئے ان کو جتنی غذا کی ضرورت تھی وہ ان کو مل گئی۔لیکن بھوک کی آزمائش بڑی سخت تھی علاوہ دوسری آزمائشوں کے جن کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جاسکتا۔پھر جب ہجرت کی اجازت ملی تو انہی کفار نے مسلمانوں کا پیچھا کیا اور کہا کہ یہ باہر نکل کر کیسے جا سکتے ہیں ہم ان کو مٹا دیں گے۔چنانچہ یہ وہ وقت تھا جب دکھ اور تکلیف، کرب اور ایذاء، آزمائش اور امتحان اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔چنانچہ پھر دنیا نے بدر کے میدان میں یہ نظارہ دیکھا کہ تین سو اور کچھ مسلمانوں کے مقابلے میں جو اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے آئے وہاں تھے (وہاں آئے ) وہ اپنے قریباً سب بڑے بڑے سرداروں کے سر چھوڑ کر واپس بھاگے۔غرض "الا ان نصر اللہ قریب“ کا ایک عجیب نظارہ تھا جو دنیا نے بدر کے میدان میں دیکھا اور پھر