تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 233
تاریخ احمدیت۔جلد 28 233 سال 1972ء تھے اور یہ اعجاز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتباع اور سلسلہ کے لٹریچر کا تھا۔دینی علوم پر آپ کو خاصا عبور حاصل تھا۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے صحبت یافتہ تھے۔ربوہ میں آپ کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے دار الرحمت غربی اور فیکٹری ایریا میں رہائش پذیر تھے۔آخری عمر میں آپ کی کمر میں خم آ گیا تھا اور جھک کر چھڑی کے سہارے چلا کرتے تھے۔آپ کا روزانہ کا معمول تھا کہ نماز فجر مسجد ناصر میں ادا کرتے۔گھر آ کر تلاوت قرآن کریم کرتے اور ناشتہ کے بعد ربوہ میں مقیم جملہ بچوں کے ہاں تھوڑے تھوڑے وقت کے لئے جاتے۔مسواک کا استعمال با قاعدگی سے کرتے اور پھر نہا کر تلاوت قرآن اور مطالعہ الفضل اور دیگر کتب سلسلہ میں مشغول ہو جاتے۔ان دنوں ربوہ کی آبادی بھی کوئی زیادہ نہ تھی۔زمین بھی شور زدہ تھی۔کلر بہت ہوا کرتا تھا۔موسم بھی بہت شدید ہوا کرتا تھا۔موسم گرما سخت گرم، جھلسا دینے والا اور موسم سرما سخت سرد کپکپا دینے والا۔کہا کرتے تھے کہ میں نے ظہر اور عصر کی نمازیں مسجد مبارک میں جا کر خلیفہ وقت کی اقتداء میں ہی ادا کرنی ہیں۔ظہر کی نماز کے وقت جاتے اور عصر کی نماز بھی مسجد مبارک میں ادا کر کے واپس دار الرحمت غربی آتے اور مغرب کی نماز مسجد ناصر میں ادا کر کے گھر آتے اور کھانے سے فارغ ہوکر وضو کر کے پھر نماز عشاء کی باجماعت ادا ئیگی کے لئے مسجد ناصر چلے جاتے۔آپ ہر کسی سے بڑے پیار سے ملتے اور ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ بات کرتے۔بڑے کم گو اور دھیمے مزاج کے مالک تھے۔مالی تحریکات میں اول وقت پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر حصہ لیتے۔قیام پیرکوٹ کے زمانے میں بھی جلسہ سالانہ اور دیگر تقاریب پر ضرور تشریف لاتے اور بڑی دلجمعی سے جلسہ گاہ میں بیٹھ کر جلسہ کی پوری کا رروائی سماعت کرتے۔پر جوش داعی الی اللہ تھے اور سلسلہ کے لئے بڑی غیرت رکھتے تھے۔چونکہ نماز ظہر و عصر مسجد مبارک میں ادا کرتے تھے لہذا اپنی قمیص کی جیب میں نمک کی ڈلی اس غرض سے رکھتے کہ اگر کبھی راستہ میں روزہ افطار کرنا پڑ جائے تو نمک سے ہی روزہ افطار کر لیں۔آخر وقت تک جب تک صحت نے اجازت دی رمضان کے پورے روزے رکھے۔عیدالفطر سے ایک روز قبل مورخہ ۷ نومبر ۱۹۷۲ء کو ۸۴ سال کی عمر میں وفات پائی۔اگلے روز مورخه ۸ نومبر ۱۹۷۲ء کو مسجد مبارک ربوہ میں حضرت خلیفہ اُسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔