تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 231 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 231

تاریخ احمدیت۔جلد 28 231 سال 1972ء آپ کے والد ماجد حضرت میاں امام الدین صاحب بھی صحابہ کرام میں سے تھے۔آپ شب بیدار، عبادت گزار، کم گو اور درویش طبع بزرگ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور دیگر مسائل دینیہ پر عبور حاصل تھا۔تبلیغ کا خاص شوق رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا عشق تھا کہ حضرت اقدس کا نام سن کر آبدیدہ ہو جاتے۔حضور کے حالات اکثر سنایا کرتے تھے۔انداز گفتگو میں ایک عجیب روحانیت کا رنگ تھا۔اپنے گاؤں میں مختلف جماعتی عہدوں پر خدمات سلسلہ بجالاتے رہے۔نماز کی پابندی میں ایک مثالی احمدی تھے۔97 تحریک جدید کے پانچبزاری مجاہدین میں شمولیت کا شرف بھی حاصل تھا۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی نے اپنی کتاب ”حیات قدسی حصہ اوّل صفحہ ۷۶ پر موضع پیر کوٹ کے دیگر اصحاب کے علاوہ آپ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔مکرم حمید الدین صاحب خوشنویس تحریر فرماتے ہیں کہ ہمارے نانا جان حضرت میاں پیر محمد صاحب کا تعلق پیر کوٹ شانی ضلع گوجرانوالہ (موجودہ ضلع حافظ آباد) سے تھا۔آپ زراعت پیشہ تھے۔سخت مشقت کے عادی تھے۔مالی وسائل محدود تھے۔سفر کی سہولتیں اور ذرائع آمدورفت بھی عصر حاضر کی طرح میسر نہ تھے مگر آپ ۱۸۹۸ء میں اپنے والد محترم حضرت میاں امام الدین صاحب کے ساتھ اپنے گاؤں اور اردگرد کے دیہات کے ۱۹ / افراد کے ساتھ پیدل چل کر پیر کوٹ ثانی سے قادیان دارالامان گئے اور مہدی دوراں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر شرف بیعت حاصل کیا۔نانا جان کی اکلوتی ہمشیرہ مریم بی بی صاحبہ ( مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) اور دو بھائی حضرت میاں نور محمد صاحب اور حضرت حافظ محمد الحق صاحب ( مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ ) تھے جو سب کے سب صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں شامل ہیں۔ہمارے نھیال میں ان بزرگوں کے ذریعہ ہی احمدیت کا پودا لگا ہے اور اس کی سرسبز شاخیں شمالاً جنوباً شرقاً غرباً دنیا کے تقریباً تمام براعظموں تک پھیلی ہوئی ہیں۔آپ لمبی تقاریر کرتے ، خطبات جمعہ پڑھتے اور ان میں جو کچھ بیان کرتے وہ اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات کا خلاصہ ہوتا۔ریویو آف ریلیجنز (اردو) اور تشخیذ الاذہان کے با قاعدہ خریدار تھے۔قرآن کریم کثرت سے پڑھتے اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مطالعہ کرتے۔رات کا اکثر حصہ نماز، دعا اور ذکر الہی میں گزار دیتے۔آپ مسجد میں جا کر نماز باجماعت ادا کرنے