تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 221
تاریخ احمدیت۔جلد 28 221 سال 1972ء جانے پر بھی پیچھے پھر کر ہماری طرف دیکھتی رہیں۔سواری کے گذرجانے پر تمام حاضرین ہماری طرف دوڑے اور ہمیں مبارکباد کہنے لگے کہ بادشاہ اور ملکہ نے ہماری طرف خاص توجہ کی۔فالحمد للہ علیٰ ذالک۔68 ۴۔حضرت قاضی صاحب کا ایک مکتوب اخبار الفضل ۲۹ ستمبر ۱۹۱۷ء میں لنڈن سے خوشخبری کے عنوان سے شائع ہوا جس میں ایک معز ز لیڈی مسز کریز کا ذکر ہے جس نے آپ کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد تصدیق نبوت رسول پاک محمد سلی یتیم کی تحریر آپ کو دی۔69 ۵ - الفضل ۲۰ اکتوبر ۱۹۱۷ء صفحہ اپر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی ایک چٹھی درج ہے جس میں آپ نے حضرت قاضی صاحب کے ایک لیکچر ۱۶ ستمبر ۱۹۱۷ء کا تذکرہ کیا ہے۔اس چٹھی میں ایک بیلجین نوجوان مسٹر موریٹ اسلمین (اسلامی نام عبداللہ ) اور مسٹر جیکسن کے مشرف بااسلام ہونے اور حضور صلی اہم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کرنے کا ذکر ہے۔مسٹر جیکسن نے اپنے لئے اسلامی نام سعدی احمد پسند کیا۔70 - اخبار الفضل ۲ اکتوبر ۱۹۱۷ ء صفحہ ۱۲ کالم ۲ میں حضرت قاضی صاحب کی تبلیغی مساعی کا احوال درج ہے۔آپ کے ذریعہ ایک انگلش لیڈی مرے پرابستین نے نبوت حضرت سید الرسل محمد مصطفی سال شما پیام وصداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا کر بطیب خاطر تحریر آپ کو دی۔ے۔ایک معز ز غیر احمدی عبدالرحمن ( مقیم نمبر ۱۳ لور بل فور کیٹ مل لنڈن ) کا حسب ذیل مکتوب اخبار مشرق میں شائع ہوا جس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت قاضی صاحب کی عظیم الشان دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا۔”جناب ایڈیٹر صاحب مشرق گورکھپور۔تسلیم۔ایک اخبار میں شیخ مشیر حسین صاحب قدوائی کا مضمون لندن میں تبلیغ اسلام کے بارے میں دیکھ کر مجھے بہت ہی تعجب ہوا کہ وہ مفتی محمد صادق صاحب اور قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی پرزور مخالفت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ یہ صاحبان احمدی ہیں اور پھر ساتھ ہی خواجہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تعریف کرتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب نے ان کے اندر اسلامی محبت کا جوش ڈال دیا ہے۔ممکن ہے کہ قدوائی صاحب بہ سبب اس کے کہ وہ دو کنگ میں قیام پذیر ہیں اور ہم طعام ہیں خواجہ صاحب کی خاص تعریف کے واسطے معذور ہوں ورنہ کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ مفتی صاحب اور قاضی صاحب جو اپنے وطن کو چھوڑ کر اور بالمقابل خواجہ صاحب محض