تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 222
تاریخ احمدیت۔جلد 28 222 سال 1972ء غریبانہ زندگی بسر کر کے تبلیغ اسلام کر رہے ہیں اور باوجود خطرات کے خاص لندن میں قیام پذیر ہیں۔ان کی صرف اس وجہ سے مخالفت کی جائے کہ وہ احمدی ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا خواجہ صاحب احمدی نہیں۔کیا ان کا خاص کارکن جو پہلے ایک معمولی یہودی تھا مرزا صاحب کو نہیں مانتا ؟ یا ان کا خاص رفیق خانساماں احمدی نہیں ؟ کیا یہاں کے نو مسلم یہ سن کر کہ خواجہ صاحب احمدی ہیں احمدیت سے محبت کرنے والے نہیں بن جاتے۔کیا وہ کنگ میں سب سے زیادہ جو کتاب نومسلموں کو دی جاتی ہے وہ مرزا صاحب کی تصنیف ٹیچنگ آف اسلام نہیں۔اور پھر کیا خود خواجہ صاحب نے کئی نومسلموں کے سامنے مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کا اقرار نہیں کیا۔میں احمدی جماعت میں داخل نہیں۔دوکنگ کے حالات مدت سے دیکھ رہا ہوں۔میں از روئے انصاف یہ کہتا ہوں کہ مفتی صاحب اور قاضی صاحب بہت جوش کے ساتھ خدمت اسلام کر رہے ہیں کیا ان کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والے کلمہ نہیں پڑھتے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف کے قائل نہیں ہو جاتے ؟ بات تو اصل میں یہ ہے کہ خواجہ صاحب ہرگز پسند نہیں کرتے کہ کوئی اور بھی کام کرنے والا ہو۔قاری سرفراز حسین صاحب کو ہر حیلے بہانے سے انہوں نے یہاں سے رخصت کر دیا۔جب کبھی ہندوستان سے کسی مشنری کے آنے کی تجویز ہوئی خواجہ صاحب نے کچھ ایسے شرائط ضرور لگا دیئے کہ وہ نہ آئے اور نہ آسکے۔وہ چاہتے ہیں کہ صرف انہی کی شہرت ہو۔مفتی صاحب اور قاضی صاحب کچھ مدد نہیں چاہتے اور لوگوں کو مسلمان کر رہے ہیں۔ان کی دلداری چاہیے اور رپورٹوں کو خوشی سے چھاپا جائے۔باقی اگر وہ احمدی ہیں اور احمدیت کی تبلیغ کر رہے ہیں تو اسلام سے کچھ الگ ہو کر نہیں کرتے۔ان کے نزدیک جو بات افضل ہے ضروری ہے کہ اپنے دین و ایمان کے مطابق وہ اس کا اظہار کریں۔خود ووکنگ کے مسلم ریویو میں اکثر مضامین جناب مرزا صاحب کی کتابوں سے نقل ہوتے ہیں اور آخر پڑھنے والے کو ایک دن معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ مضمون مرزا صاحب کا ہے۔قاضی صاحب اور مفتی صاحب کسی مسلمان کو یہاں آنے اور تبلیغ کرنے سے روکتے نہیں۔ہاں خواجہ صاحب ایسی باتیں لکھا کرتے ہیں کہ ۴۰ سے کم عمر کا کوئی نہ آئے۔کوئی ایسا شخص نہ آئے جو انگریزی اور عربی ہر دوزبانوں کا ماہر نہ ہو۔یہ صرف اس واسطے ہے کہ نہ ایسا شخص ہوگا اور نہ کوئی آئے گا۔حالانکہ خواجہ صاحب ان دونوں زبانوں کے ماہر نہیں مگر جس کو خواجہ صاحب اپنی ڈھب کا اور اپنا راز دار پاتے ہیں اس کو بغیر کسی شرط کے بلا لیتے یا ساتھ لے آتے ہیں۔غرض میں نے سچائی کے ساتھ اس امر کا اظہار کر دیا ہے کہ مسلمانوں کو سچ سچ حال معلوم ہو جائے۔71