تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 211 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 211

تاریخ احمدیت۔جلد 28 211 سال 1972ء متوطن کوٹ قاضی (ضلع گوجرانوالہ) کے صاحبزادے تھے جنہیں بیعت اولی کے پہلے ہی روز سلسلہ احمدیہ سے منسلک ہونے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت اقدس نے ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۴۴ پر ۳۱۳ /اصحاب کبار کی فہرست میں ۲۸۱ نمبر پر آپ کا نام درج فرمایا ہے۔حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب اپنے والد ماجد کے ساتھ پہلی بار مارچ ۱۹۰۰ء میں قادیان آئے اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں داخلہ لے لیا۔58 بعد ازاں بی اے کا امتحان علی گڑھ سے اور بی ٹی کا ٹریننگ کالج لاہور سے پاس کیا۔59 مدرسہ تعلیم الاسلام میں ملک نور خان صاحب جو بعد میں شفاخانہ نور میں ڈسپنسر رہے آپ کے ہم جماعت تھے۔قادیان آجانے کے بعد مدرسہ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ حضور علیہ السلام سے آٹھ سال تک فیضان پایا۔مسجد مبارک میں نماز پڑھنے اور حضور علیہ السلام کے پاؤں دبانے اور حضور کے ہمراہ سیر میں جانے اور لاہور اور گورداسپور کے بعض سفروں میں ہمرکاب ہونے کا موقع ملا۔آپ خطبہ الہامیہ کے دوران بھی مسجد اقصیٰ میں موجود تھے۔60 سردار مصباح الدین صاحب (سابق مبلغ انگلستان) نے قادیان میں ایک عرصہ تک ذکر حبیب کی مجالس قائم کر کے بہت سے صحابہ کرام کے حالات محفوظ کئے۔اس سلسلہ میں ۲۰ ۱٫ پریل ۱۹۳۱ء کی ایک مجلس میں حضرت قاضی صاحب نے بتایا۔”ہم بچوں میں بھی حضور علیہ السلام کی خدمت کا بڑا شوق تھا۔ایک دفعہ میں اور مرحوم ملک احمد حسین صاحب بیرسٹر نے ارادہ کیا کہ ہم حضرت کو دباتے رہیں گے۔چنانچہ ہم دبانے لگے اور دیر تک دباتے رہے۔جب حضرت کو خیال آیا کہ بہت دیر ہوگئی ہے تو فرمایا اب تم جاؤ۔ہم نے کہا کہ نہیں حضور ہم ٹھہریں گے مگر حضور علیہ السلام نے ہم کو بھیج ہی دیا۔ان ایام میں حضور علیہ السلام احباب کے ساتھ دوپہر کا کھانا بیت الفکر میں اور شام کا کھانا بیت کی چھت پر تناول فرمایا کرتے تھے۔مسجد مبارک چھوٹی تھی۔مغرب کے بعد اس کے شاہ نشین پر حضور علیہ السلام بیٹھ جایا کرتے تھے اور وہ شاہ نشین مغرب کی سمت تھا۔احباب اردگرد حلقہ کر کے بیٹھ جاتے اور حضور ایمان افروز باتیں بیان فرمایا کرتے تھے۔باتیں مختلف امور کے متعلق ہوا کرتی تھیں حضرت کا معمول تھا کہ اگر کوئی خاص روک نہ ہو تو صبح سیر کے لئے تشریف لے جاتے۔حضور کے اندر سے تشریف لانے سے قبل اکثر احباب حضور کے انتظار میں باہر کھڑے رہتے۔