تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 210
تاریخ احمدیت۔جلد 28 210 سال 1972ء عبدالی خان صاحب ڈپٹی پوسٹ ماسٹر سکنہ کا ٹھ گڑھ کی حقیقی ہمشیرہ اور مولوی عبدالسلام صاحب کا ٹھکراھی کی چچازاد ہمشیرہ سے ہوگئی اور اس طرح سے آئندہ نسل خدا تعالیٰ کے فضل سے محفوظ ہوگئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی وفات پر جب غیر مبائعین نے انجمن اور خلافت کا فتنہ کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ کا سراسر فضل و احسان ہے کہ مجھے اس نے خلافت کی تائید میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی چنانچہ کتاب ”حیات نور میں میرا نام بھی اعلان خلافت کرنے میں غلام قادر آف لنگر وعد سیکرٹری جماعت احمد یہ لنگڑ وعہ کے نام سے درج ہے۔میں نے ملکانہ تحریک شدھی میں بھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحریک پر تین ماہ اپنے خرچ پر تبلیغی کام سرانجام دیا اور جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو میں محکمہ سپلائی میں ملازم ہو کر بصرہ ، بغداد، نجف وغیرہ میں گیا اور وہاں پر بکثرت سلسلہ کالٹر پچر تقسیم کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے مجھے ہر مالی قربانی میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی۔چنانچہ میں نے منارۃ اُسیح میں ۱۰۰ روپیه، مسجد فرینکفورٹ میں ۱۰۰ روپیہ تعمیر دفتر انصار اللہ میں ۱۰۰ روپیہ، حصہ جائیداد وصیت میں اب تک ۲۵۰۰ روپیہ دیا۔51 66 حضرت چوہدری صاحب ۱۹۲۳ء کی دوسری سہ ماہی کے پہلے وفد شدھی میں شامل تھے اور آپ کانمبر ۱۹۷ تھا۔اس وفد کے ارکان کو یہ حکم تھا کہ وہ ۲۰ جون کو آگرہ جانے کے لئے ۱۵ جون کو قادیان پہنچ جائیں۔52 آپ کو تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شمولیت کا شرف بھی حاصل تھا۔آپ پر جوش داعی الی اللہ تھے۔تبلیغی لٹریچر اپنی جیب میں رکھتے تھے اور غیر از جماعت دوستوں سے گفتگو کے دوران تبلیغ کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکال لیتے تھے۔53 اولاد: عبدالجبار خاں صاحب۔عبدالوہاب خاں صاحب۔عبدالحکیم خاں صاحب۔عائشہ بیگم صاحبہ۔54 حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بھٹی مجاہد انگلستان ولادت: ۹ نومبر ۱۸۸۶ ء 55 بیعت: ۱۸۹۵ ء 56 وفات : ۲۷ ستمبر ۱۹۷۲ ء57 آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابی حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب