تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 201
تاریخ احمدیت۔جلد 28 201 سال 1972ء جمعہ پڑھاتے اور ان سے چندے وصول کر کے مرکز میں بھجواتے تھے۔حافظ آباد میں آپ پہلے سیکرٹری اصلاح و ارشاد، جنرل سیکرٹری اور پھر پریذیڈنٹ کے عہدے پر فائز ہوئے۔آپ تحریک جدید کے دفتر اول کے مجاہدین میں سے تھے۔آپ کے داماد جناب سید اعجاز احمد شاہ صاحب سابق انسپکٹر بیت المال حال مقیم جرمنی کا بیان ہے کہ:۔قیام پاکستان کے موقع پر جو احمدی گھرانے حافظ آباد آئے ان کو آباد کرنے میں مرحوم نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔نماز تہجد با قاعدگی سے ادا کرتے تھے۔باوجود پیرانہ سالی اکثر نصف شب کے بعد بستر سے اٹھ کھڑے ہوتے اور گھنٹوں نوافل، ذکر واذکار میں مشغول رہتے۔اذان فجر پر مسجد جا کر نماز باجماعت پڑھتے اور نماز کے بعد سورج چڑھنے تک بلکہ بعض دفعہ کافی دیر بعد قرآن کریم کی تلاوت کے بعد گھر لوٹتے۔دعاؤں کی خصوصی عادت تھی۔ایک لمبی فہرست دعاؤں کی ان کو از بریا تھی چنانچہ نوافل کی آٹھ رکعتوں میں ہر رکعت وسجدہ کے لئے علیحدہ علیحدہ دعاؤں کے مضامین ترتیب دیئے ہوئے تھے۔سادہ لباس پہنے کے عادی تھے۔ساری عمر پگڑی پہنی۔غذا سادہ تھی چنانچہ اس عادت کے طفیل ان کی صحت بفضل خدا وفات کے دن تک اچھی رہی اور معدہ اچھا رہا۔سیر کی عادت تھی اور روزانہ مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت سے فراغت پر لمبی سیر کر کے گھر آتے اکثر میری اہلیہ (سعیدہ اقبال بیگم صاحبہ ) سے فرمایا کرتے کہ بیٹی اگر مر جاؤں تو تم ( یا تمہارا خاوند ) مجھے ربوہ پہنچا دینا باقی عزیز واقارب تو غیر احمدی ہیں ان پر بھروسہ نہیں سو محترم قاضی صاحب مرحوم کی یہ خواہش بکمال تمام پوری ہوئی۔بوقت وفات عاجز آزاد کشمیر کی جماعتوں کے دورہ پر تھا میری اہلیہ اور میرے برادر نسبتی قاضی امان اللہ صاحب نے بڑی ہمت و جرات سے ربوہ لے جا کر تدفین کی۔جزاھم اللہ 22 اولاد آپ نے پانچ لڑکیاں اور دولڑ کے قاضی امان اللہ صاحب اور قاضی شریف احمد صاحب یادگار چھوڑے۔حضرت ملک فضل الہی صاحب رئیس مجو کہ (وفات: یکم ستمبر ۱۹۷۲ء) 32 مکرم ملک فضل الہی صاحب رئیس مجو کہ مورخہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء کو بعمر ۹۰ سال وفات پاگئے۔ان