تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 200
تاریخ احمدیت۔جلد 28 200 سال 1972ء سکنہ کنجاہ ضلع گجرات کو ۱۹۰۴ء میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔آپ مورخہ ۱/۲۷ پریل ۱۹۷۲ء کو قلیل عرصہ کی بیماری کے بعد وفات پا گئیں۔مرحومہ صوم صلوۃ کی پابند تھیں اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔حضرت ملک عبدالغنی صاحب کے حالات زندگی تاریخ احمدیت جلد ۲۱ صفحه ۳۲۵ تا ۳۲۸ پر شائع شده ہیں۔26 اولاد: عبدالرشید کنجاہی صاحب۔عبدالسمیع خان صاحب۔عبدالرحمن صاحب۔صادقہ صاحبہ حضرت شیخ اللہ بخش صاحب ولادت : انداز ۷۸-۱۸۷۷ء 27 بیعت : یکم فروری ۱۸۹۲ ء28 وفات : ۲۵ مئی ۱۹۷۲ء 29 آپ خان بہادر شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم گیریژن انجینئر دارالعلوم قادیان کے بھائی تھے۔آپ بہت مرنجان مرنج اور مخلص صحابہ کرام میں سے تھے۔آپ نے چنیوٹ میں وفات پائی۔ربوہ میں دفن کئے گئے۔30 حضرت قاضی ضیاء اللہ صاحب ولادت: ۱۸۹۸ء بیعت : پیدائشی احمدی وفات: یکم جون ۱۹۷۲ء31 آپ کے والد ماجد حضرت قاضی چراغدین صاحب ساکن پسر ورضلع سیالکوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔قاضی ضیاء اللہ صاحب نے حضرت اقدس علیہ السلام کی پہلی بار زیارت اکتوبر ۱۹۰۴ء میں بمقام سیالکوٹ کی اور دستی بیعت کا شرف بھی حاصل کیا۔فرمایا کرتے تھے کہ اس موقعہ پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عاجز کی کمر پر دست شفقت پھیرا۔آپ جے وی کا امتحان گوجرانوالہ سے پاس کر کے ڈسٹرکٹ بورڈ گوجرانوالہ میں ملازم ہو گئے اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے ماتحت احمد نگر اور کوٹ ہر اتحصیل وزیر آباد اور پنڈی بھٹیاں میں بطور مدرس کام کیا۔۱۹۳۲ ء میں ڈسٹرکٹ بورڈ سے میونسپل کمیٹی حافظ آباد منتقل ہوئے اور حافظ آباد ہی سے ۱۹۵۳ء میں ہیڈ ٹیچر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔آپ کی سروس بک میں افسران بالا کے اعلیٰ ریمارکس کے مطابق آپ سارا عرصہ ملازمت نہایت محنت، دیانت اور اخلاص سے علمی خدمات بجالاتے رہے۔علاوہ ازیں دوران ملازمت جہاں جہاں رہے وہاں کے ماحول کے احمدی احباب کو منظم کر کے نماز