تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 199 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد 28 199 سال 1972ء لے آئے اور آپ بہت خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مرکز میں خلافت کے زیر سایہ رہائش اختیار کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔آپ اکثر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا ور دفرمایا کرتے تھے اور ہمیں بھی ایسا کرنے کا ارشاد فرمایا کرتے۔دعا رب کل شئ خادمک رب فاحفظنی و انصرنی و ارحمنی کثرت سے پڑھتے اور فرمایا کرتے اس دعا نے میری دنیا ہی بدل دی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نور سے میرا دل منور ہو گیا ہے تم بھی اسے پڑھا کرو تم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نئے نئے نظارے دیکھو گئے“۔24 رحلت کے وقت آپ کی عمر ۸۰ سال تھی۔آپ نے ۵ لڑکے اور لڑکیاں یادگار چھوڑیں۔۲۴ مارچ ۱۹۷۲ء کو آپ کا جنازہ ربوہ لایا گیا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے از راہ شفقت نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد قطعہ خاص میں تدفین عمل میں آئی۔تدفین کے بعد محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے دعا کرائی۔اولاد بشیراں بی بی صاحبہ۔چوہدری نور احمد صاحب۔چوہدری غفور احمد صاحب۔چوہدری علی احمد صاحب۔چوہدری نذیر احمد صاحب ( ان کے داماد ڈاکٹر منیر احمد مبشر صاحب ہیں جو حضرت مولانا نذیر احمد مبشر صاحب کے بیٹے ہیں )۔چوہدری بشیر احمد صاحب۔غفوراں بی بی صاحبہ۔انور بیگم صاحبہ حضرت فاطمہ بی بی صاحبہ ولادت: ۱۸۸۵ء بیعت : بیعت کے سال کی تعین نہیں ہوسکی وفات : ۱۳ را پریل ۱۹۷۲ء آپ شیخ فتح محمد صاحب فیض اللہ چک کی اہلیہ، محمد کریم صاحب آف چک E۔B/۲۴۵ گگومنڈی ضلع وہاڑی کی والدہ تھیں۔اور حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ فاضل امیر جماعت احمد یہ قادیان اور بابومحمد عبد اللہ صاحب کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔آپ نے مورخہ ۱۱۳ پریل ۱۹۷۲ء کو ۷ ۸ سال کی عمر میں وفات پائی۔25 اولاد: زہرہ بیگم صاحبہ عائشہ بیگم صاحبہ مختاراں بیگم صاحبہ محمد کریم صاحب۔ارشاد بیگم صاحبہ حضرت برکت بی بی صاحبہ ولادت: ۱۸ مارچ ۱۸۸۹ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات: ۱/۲۷ پریل ۱۹۷۲ء حضرت برکت بی بی صاحبہ زوجہ حضرت ملک عبد الغنی صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام