تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 198 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 198

تاریخ احمدیت۔جلد 28 198 سال 1972ء صاحب رہتے تھے جو صاحب رؤیا وکشوف تھے۔آپ کو الہاماً بتایا گیا کہ امام وقت کا ظہور ہو چکا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق آپ کا سلام اسے پہنچانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔اس الہی خبر کے بعد حضرت با با باشم صاحب قادیان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے مشرف ہوئے اور پھمبیاں واپس آکر لوگوں کو بتایا کہ مسیح موعود علیہ السلام جس کی صدیوں سے انتظار تھی قادیان کی مقدس بستی میں آگیا ہے۔آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں ۱۹۰۳ء میں گاؤں کے قریباً سو گھرانوں نے بیعت کے خطوط لکھے۔انہی بیعت کرنے والوں میں میرے دادا حضرت چوہدری وزیر علی صاحب اور میرے والد محترم چوہدری نور محمد صاحب بھی تھے۔۱۹۰۵ء میں دادا جان اور والد صاحب مرحوم نے قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دستی بیعت کا بھی شرف حاصل کیا۔محترم والد صاحب کی ظاہری تعلیم کچھ نہیں تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق ،حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت اور اپنی کوشش کے نتیجہ میں اپنے طور پر علم حاصل کیا۔اردو اور عربی پڑھ لیتے تھے۔دماغی صلاحیتوں کا یہ حال تھا کہ گاؤں کے ہندو اور مسلمان ہر کام میں آپ سے مشورہ لیتے تھے اور پھر آپ کے مشورہ پر عمل کرتے۔جسمانی لحاظ سے آپ بہت مضبوط تھے۔۶۰ سال کی عمر میں بھی کوئی جوان آپ کے مقابلہ پر کام نہیں کر سکتا تھا۔تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب خصوصاً ملفوظات بڑے ترنم سے پڑھتے۔اخبار الفضل کا با قاعدہ مطالعہ کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے آپ کو والہانہ عشق تھا۔حضرت المصلح الموعود کے مبارک خطبات کو سن کر آپ پر وجد کی حالت طاری ہو جاتی۔آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرنا اپنا فرض جانتے۔حضور کی وفات کی وجہ سے آپ کو جو صدمہ ہوا وہ بہت ہی درد ناک تھا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے بھی آپ کو بہت محبت تھی۔آپ کی صحت اور درازی عمر کے لئے ہر وقت دعا کرتے رہتے۔اولا دکو دینی اور دنیوی تعلیم دلانے کا بہت شوق تھا۔اس شوق کی وجہ سے اور ایک رؤیا کی بناء پر آپ ۱۹۴۱ء میں پھمبیاں سے ہجرت کر کے قادیان آگئے۔مالی حالت گواچھی نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس تمنا کو پورا کیا۔قیام پاکستان کے بعد آپ نے پہلے اوکاڑہ میں سکونت اختیار کی پھر ضلع میانوالی میں چلے گئے۔جب میرے چھوٹے بھائی نے ربوہ میں ایک دکان بنالی تو آپ ربوہ تشریف