تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 196
تاریخ احمدیت۔جلد 28 196 سال 1972ء پاس گذرا۔کچھ عرصہ لنگر خانہ (دار الضیافت) کے انچارج رہے اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب اکثر اوقات ان کے کام پر بڑی خوشنودی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔وہاں سے فارغ ہو کر نظارت بیت المال میں بطور انسپکٹر بیت المال کے لمبے عرصے تک ملازمت کی ( آپ کا تقرر ایک بار بھیرہ میں بھی ہوا 13 اور وہاں سے ہی پنشن حاصل کی) اور اس دوران حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے ہمیشہ ہی ان کے ساتھ بڑا ہی مشفقانہ سلوک روا رکھا۔حضرت مصلح موعود ان کا بڑا خیال اس وجہ سے رکھتے کہ حضرت امتہ الحئی صاحبہ کو ان کے ساتھ بڑا انس تھا اور وہ ہمیشہ ہی ان کا بڑا خیال رکھتی تھیں۔اس لئے حضور بھی اکثر موقعوں پر یاد فرماتے رہتے تھے اور خاص طور ( پر ) موسموں کے پھل ضرور بھجوایا کرتے تھے اور ان کے فرمودات تو سب قادیان ہی رہ گئے تھے۔جسم کے تین کپڑوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں تھا جب وہ پاکستان پہنچے۔14 حضرت قریشی صاحب بہت نیک، دعا گو، بے ضرر اور متقی بزرگ تھے۔صدر انجمن احمدیہ کے کارکن کی حیثیت سے عرصہ دراز تک خدمت دین کی توفیق پائی 15۔آپ کا ذکر صدر انجمن احمدیہ کی مطبوعہ رپورٹوں میں ملتا ہے۔اولاد : قریشی میر محمد صاحب۔ڈاکٹر قریشی محمد عبداللہ صاحب۔قریشی منیر احمد صاحب۔سلطان احمد صاحب۔زینب قدسیہ صاحبہ اہلیہ مرزا محمد رفیع صاحب امیر جماعت احمد یہ کنری 16 حضرت حکیم رحمت اللہ صاحب ولادت: اندازاً ۱۸۷۴ء17 بیعت : دسمبر ۱۹۰۷ ء18 وفات : ۱۲ فروری ۱۹۷۲ء19 محترم حکیم صاحب ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے اور اس کے بعد تا وفات نہایت استقلال کے ساتھ احمدیت پر قائم رہے۔۲۲ مئی ۱۹۱۶ء کو نظام وصیت میں شمولیت کا شرف حاصل کیا۔آپ موضع جو گووال نز د کلانور ضلع گورداسپور کے باشندہ تھے۔غالباً ۱۹۲۷ء میں ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے اور تقسیم ملک تک وہاں طبابت اور پنسار کا کاروبار کرتے رہے۔قیام پاکستان کے بعد پاکستان تشریف لے آئے۔پہلے کچھ عرصہ کراچی میں مقیم رہے۔۱۹۵۰ء میں ربوہ تشریف لے آئے۔جہاں تا وفات آپ مقیم رہے۔آپ اپنے والد حکیم محمد بخش صاحب کے اکلوتے فرزند تھے۔آپ نے اپنے والد سے ہی طب