تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 169 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 169

تاریخ احمدیت۔جلد 28 169 سال 1972ء گے اپنے اندر ایک فرق رکھتی ہے ایک امتیاز قائم کرتی ہے آج کی محنتوں کا (اگر اخلاص سے کی جائیں تو ) یقیناً بہت زیادہ اجر ہے۔حضور انور نے ربوہ کی بنجر زمین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ایک بنجر زمین پر کام کر رہے ہیں۔پس اس وقت آپ کی محنت اللہ تعالیٰ سے زیادہ انعام پانے والی ہے۔حضور انور نے کارکنان جلسہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو انتہائی برکات کے حصول کا جو موقع جلسہ سالانہ کی صورت میں عطا فرمایا ہے اس موقع سے بھی فائدہ اٹھا ئیں اور برکتوں کو حاصل کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔172 جلسہ سالانہ ربوہ ۱۹۷۱ ء کے افسوسناک اور تکلیف دہ حالات کے باعث سالانہ جلسہ منعقد نہ ہو سکا تھا۔جس کی روحانی تشنگی پورا سال احباب جماعت محسوس کرتے رہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اس سال ۱۹۷۲ء کے جلسہ سالانہ سے اس کی تلافی کر دی۔اس مبارک و مقدس اجتماع میں دنیا کے کونے کونے سے آنے والے فدائیوں کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار تک پہنچ گئی۔اس موقع پر انگلستان، کویت، مشرق وسطی اور عرب ریاستوں سے درجنوں کی تعداد میں مخلصین جماعت تشریف لائے۔علاوہ ازیں امریکہ، کینیڈا، مغربی جرمنی، سوڈان، افریقہ، ہالینڈ، ناروے اور انڈونیشیا سے بھی متعدد احمدیوں نے شرکت فرمائی۔جن میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب صدر عالمی عدالت انصاف ( ہیگ)، السید منیر احصنی صاحب امیر جماعت احمدیہ دمشق (شام) ، بشیر احمد صاحب آرچرڈ مبلغ احمدیت اور محمد ناصر بن بہر دم یوسف صاحب انڈونیشیا خاص طور پر ممتاز تھے۔خواتین کے جلسہ سالانہ میں ڈنمارک ، امریکہ، کینیڈا، انگلستان، زیمبیا، کینیا، کویت اور انڈونیشیا کی بعض احمدی بہنیں شامل ہوئیں۔یہ مبارک جلسه ۲۸،۲۷،۲۶ دسمبر ۱۹۷۲ء کوذکر الہی ، انابت الی اللہ کے ایمان پرور ماحول اور آسمانی برکتوں اور رحمتوں کے سایہ میں منعقد ہوا۔مردانہ جلسہ گاہ مسجد اقصیٰ سے ملحق وسیع میدان میں سٹیڈیم کی طرز پر گیلریوں کے ساتھ بنائی گئی تھی اور اسے پہلے سے بہت وسیع کر دیا گیا تھا۔زنانہ جلسہ گاہ تو اس دفعہ سراسر نا کافی ثابت ہوئی۔173 افسر جلسہ سالانہ کے فرائض محترم سید داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ نے سرانجام دیئے۔