تاریخ احمدیت (جلد 28)

by Other Authors

Page 167 of 497

تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 167

تاریخ احمدیت۔جلد 28 167 سال 1972ء ہے۔پھر نومبر میں پاکستان کے ایک ذریعہ سے پتہ چلا کہ بعض غیر ملکی جماعت احمد یہ میں غیر معمولی مفسدانہ دلچسپی لے رہے ہیں۔اس طرح پہلی خبر کی تصدیق ہو گئی میں نے بتایا ہے کہ ہم تو ایک کمزور سی جماعت ہیں۔ہمارے ذرائع بڑے محدود ہیں ہمیں یہ خبریں ملیں مگر حکومت کے زیادہ ذرائع ہیں اسے زیادہ صحیح اور زیادہ خبریں ملتی ہوں گی اور یہ نتیجہ میں پنجاب کے گورنر غلام مصطفی کھر کی پچھلے سات آٹھ دن کی نقار پر سے نکالتا ہوں کیونکہ ان کو حالات کی زیادہ خبر ہے۔آج تو انہوں نے بہت زیادہ سخت بیان دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تم نے منصوبہ بنایا ہے پاکستان کو تباہ کرنے کے لئے پاکستان میں خون بہانے کا لیکن اگر خون ایک دفعہ بہنا شروع ہو گیا یعنی تم نے پہل کر دی تو پھر اس وقت تک خون بہتا رہے گا جب تک تمہارا سارا خون نہ نکل جائے۔آئندہ کیا حالات رونما ہوتے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن کیا ضرورت سمجھی حکومت نے اس قسم کی تنبیہہ کی۔وہ آج کے بیان سے ظاہر ہے۔ہمیں اپنے ذرائع سے پہلے سے علم تھا کہ ہمارے خلاف منصوبہ بنایا جارہا ہے اور میں انتظار کر رہا تھا، میں دعائیں کر رہا تھا۔بعض دوستوں کو میں نے بعض باتیں بتائیں اور بعض کو دوسری باتیں بتائیں میں نے کہا کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر لحظہ ہر آن ہر لحاظ سے اپنی حفاظت اور امان میں رکھے۔اگر ہم نے خدا کے حضور صحیح قربانیاں دیں تو ہم اس کی مدد اور نصرت کو معجزانہ طور پر آسمان سے نازل ہوتے دیکھیں گے۔جہاں تک احمدیت کو تباہ کرنے کا سوال ہے۔وہ تو ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔جس جماعت کو خدا نے تمام بنی نوع انسان کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے اس جماعت کو انسانوں کا ایک چھوٹا سا ناسمجھ گروہ تباہ کیسے کرسکتا ہے؟ یہ تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا مگر اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا تعلق ہے وہ نہ کبھی ٹوٹنا چاہیے۔نہ کمزور 66 ہونا چاہیے۔دنیا جو مرضی کرتی ہے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔169 ربوہ میں ایک وسیع جلسہ گاہ کی تعمیر کے لئے خصوصی تحریک سلسلہ احمدیہ کا مقدس قافلہ خلیفہ راشد سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی ولولہ انگیز قیادت میں