تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 166
تاریخ احمدیت۔جلد 28 166 سال 1972ء مسابقت نہیں۔اسلام کی مسابقت تو وہ ہے کہ جس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَة لیکن تمہارے اختلاف تو امت مسلمہ کے لئے زحمت بن گئے ہیں۔یہ ایک دوسرے کو زخمی کرنا اور سر پھوڑنا امتی کا اختلاف کہاں سے ہو گیا؟ پس یہ جو فتنہ بپا ہے یہ پانچ سات دن کا نہیں یہ ایک منصوبہ ہے جو پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے کے معا بعد شروع ہو گیا تھا۔جماعت احمد یہ دنیوی معیار کے مطابق، ایک کمزورسی، ایک بے سہارا سی ، ایک لاوارث سی جماعت ہے لیکن نہ ہم کمزور ہیں نہ بے سہارا کیونکہ ہمارا سہارا تو وہ چیز ہے جو دنیا کونظر نہیں آتی یعنی خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی رحمت ہمارا سہارا ہے۔اس لئے ہم کمزور بھی ہیں دنیا کی نگاہ میں اور ہم طاقتور بھی ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہیں کہ وہ ہمارا سہارا بنے گا۔پس قادر و توانا خدا جس کا سہارا بن جائے اس کو دنیا کیسے کمزور پائے گی؟ گو ہمارے ذرائع بڑے محدود ہیں لیکن تھوڑا بہت علم ہوتا رہتا ہے۔چنانچہ گزشتہ جولائی میں ایک ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان پیدا کیا مجھے یہ خبر ملی کہ یونیورسٹیز کو بند کروانے اور تعلیمی اداروں میں فتنہ وفساد کروانے کے لئے ایک بہت بڑی سازش پاکستان کے باہر ہوئی ہے۔میں سیاسی حکمتوں کی وجہ سے نام کسی کا نہیں لوں گا لیکن جو بات کروں گا وہ بالکل پکی ہے یعنی مجھے یہ اطلاع ملی کہ پاکستان کی یو نیورسٹیز اور کالجز کو ہنگاموں کے ذریعہ اور فساد کے نتیجہ میں بند کروانے کے لئے ایک سیاسی جماعت کو دس کروڑ روپیہ دیا گیا ہے پاکستان کی سلامتی کا جذبہ اور پاکستان کی محبت اگر تمہارے دلوں میں ہو تو پھر تمہیں ہر فساد کے لئے باہر سے پیسے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔پھر ہمیں 4 راکتو بر کی چلی ہوئی بیرون پاکستان سے یہ اطلاع آئی کہ بڑے منصوبے بن رہے ہیں اور ان میں یہ بھی منصوبہ ہے کہ چونکہ جماعت احمدیہ کے افراد بھی عوام ہیں اور ان کی ہمدردیاں پیپلز پارٹی سے ہیں اس لئے ان کے خلاف ہنگامہ آرائی کا ایک بہت بڑا منصوبہ پاکستان سے باہر بنایا گیا