تاریخ احمدیت (جلد 28) — Page 165
تاریخ احمدیت۔جلد 28 165 سال 1972ء صاحب کی گھوڑی ہٹلر (جو دراصل ہٹلر نہیں ہے ) اس کے برابر برابر تو قریباً اب بھی ہے۔پس اچھی نسل کے گھوڑے پالنے کی طرف دوست زیادہ توجہ دیں۔زمیندار دوستوں کو تو ان پر زیادہ خرچ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ان کے لئے انہیں نوکر نہیں رکھنے پڑتے۔وہ خود ہی سنبھال سکتے ہیں۔پھر ہماری لینی ٹائپ جو گھوڑے ہیں وہ تو کچھ زیادہ کھاتے بھی نہیں۔لیبنی عرب گھوڑے سے بس دگنا کھاتی ہے اور جو آپ کے دیسی گھوڑے ہیں وہ عرب گھوڑے سے دس گنا زیادہ کھانے والے ہیں۔پھر ان کو مشق بھی زیادہ کروانی چاہیے۔روزانہ ۴۰-۵۰ میل سفر کروانا چاہیے۔پس دوست یہ کوشش کریں کہ پانچ سال میں چار ہزار گھوڑے شامل ہونے کا جو پہلا ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے اس تک پہنچ جائیں۔صرف سرگودھا اور جھنگ ہی نہیں بلکہ دوسرے اضلاع جن کے متعلق ابھی ذکر کیا گیا ہے انہیں ملا کر اگلے چار پانچ سال تک چار ہزار گھوڑا اس مقابلہ میں شامل ہونا چاہیے۔168 66 جماعت احمدیہ کے خلاف ایک استعماری منصوبہ کی خبر ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلافت جو فتنہ و فساد برپا ہوا اور جس طرح نہتے ، کمزور احمد یوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ان کی منصوبہ بندی بہت دیر پہلے سے کی جارہی تھی۔چنانچہ حضور انور کی دور بین نگاہوں نے اس بر پا ہونے والے فتنہ کو بھانپ کر اپنے خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء میں احباب جماعت کو باخبر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔”ہمارے ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھی بھڑک رہی ہے اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم پاکستان کو زیادہ اچھا چلا سکتے ہیں۔ہم آگے بڑھیں گے اتحاد کا دعوی کر کے پاکستان کی بنیاد کے اوپر تبر چلانا اور فساد کرنا اس کو تو خدا تعالیٰ پسند نہیں کرتا اور پاکستان کے جو اموال اور خزانے ہیں انہیں تباہ کرنا اور انہیں آگئیں لگانا اور پاکستان کی جو حقیقی دولت ہے یعنی انسان اور اس کی فراست اور اس کی محنت اور اس کی جد و جہد، اس کی جفاکشی اور اس کا مجاہدہ اس حقیقی دولت کو تباہ و برباد کرنا یا اس کی جد و جہد میں روکیں پیدا کر کے دراصل قوم کی دولت کو نقصان پہنچانا ہے یہ اسلام کی